بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کی 100 میگاواٹ سولر منصوبے سے متعلق اہم ہدایات

datetime 8  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے

متعلقہ اداروں کو منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرنے اور تمام مراحل میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں سستی، ماحول دوست اور پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے شمسی توانائی کو قومی توانائی پالیسی کا اہم حصہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے لیے 100 میگاواٹ کا یہ منصوبہ وفاقی حکومت کا ایک اہم تحفہ ہے۔انہوں نے پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ منصوبے کی تنصیب اور بروقت تکمیل کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھائی جائیں، جبکہ خریداری کے پورے عمل کو مکمل شفاف رکھا جائے۔ وزیراعظم نے مزید تاکید کی کہ تمام مالی ادائیگیاں تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے بعد ہی کی جائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 499 سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر بیٹری اسٹوریج کے ساتھ 18 میگاواٹ کے سولر سسٹمز دسمبر 2026 تک نصب کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 82 میگاواٹ یوٹیلٹی اسکیل سولر منصوبے کا پی سی ون منظوری کے لیے ایکنک (ECNEC) کو ارسال کر دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق 82 میگاواٹ کے اس منصوبے سے تقریباً 13 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبہ مکمل ہونے سے گلگت بلتستان میں بجلی کی فراہمی کا معیار بہتر ہوگا، لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی آئے گی اور عوام کو زیادہ مستحکم توانائی میسر ہوگی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پاور سردار اویس لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی سمیت متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…