جمعرات‬‮ ، 18 جون‬‮ 2026 

پی این ایس سی کی بہتری کا منصوبہ، غیرملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ 6ارب ڈالر ادائیگی کا انکشاف

datetime 30  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)حکومت نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن(پی این ایس سی)کی بحالی اور بہتری کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ غیرملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ کرایے کی مد میں 6ارب ڈالر کی ادائیگی کی جاتی ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق اس وقت پی این ایس سی کے پاس صرف 10بحری جہاز ہیں جو ملکی تجارتی سامان کا محض 11فیصد حصہ منتقل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کو غیرملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ تقریباً 6ارب امریکی ڈالر کا زرمبادلہ بطور کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اور اس وقت ملک کی تقریباً 90فیصد درآمدات و برآمدات غیر ملکی بحری جہازوں کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ پی این ایس سی کا ایک سنگین چیلنج پرانی ساخت کے جہاز ہیں، بہت سے جہاز اپنی آپریشنل مدت کے اختتام کے قریب ہیں، جس کی وجہ سے 2030کے بعد انہیں منافع بخش طریقے سے چلانا مشکل ہو جائے گا اور دوسری طرف بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او)کی جانب سے کاربن کے اخراج میں کمی کے نئے ریگولیٹری نظام نے اس صورت حال کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ان تمام کوششوں کا اصل مقصد پی این ایس سی کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ غیر ملکی کمپنیوں کو ڈالر کی صورت میں ادا کیے جانے والے قومی مال برداری کے اخراجات کو کم سے کم کیا جا سکے۔مزید بتایا گیا کہ شپنگ کی صنعت میں ترقی کی وسیع گنجائش کے باوجود نجی آپریٹرز کی عدم موجودگی مارکیٹ کی فعالیت اور تیزی میں رکاوٹ کا باعث ہے تاہم این ایل سی کے کاروبار میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ 2030تک قومی کارگو اٹھانے کی صلاحیت بڑھائی جا سکے اور غیر ملکی جہازوں پر انحصار ختم کیا جا سکے۔حکومت کے کاروباری منصوبہ 2026-2030کے مطابق اس اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت اگلے 5سال میں پی این ایس سی کے فعال جہازوں کی تعداد 54تک پہنچ جائے گی۔پی این ایس سی کے جہازوں کی تعداد میں اضافے سے ہونے والے متوقع فوائد کے بارے میں بتایا گیا کہ اس منصوبے سے حکومت اور پی این ایس سی کا سمندری مال برداری کا حصہ 5فیصد سے بڑھ کر 56فیصد (162ملین ڈالر سے 1785ملین ڈالر) تک پہنچ جائے گا۔

اسی طرح اس اقدام کے ذریعے پی این ایس سی کے تمام پرانے جہازوں کی 100فیصد تبدیلی اور نئے جہازوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی اور اس منصوبے کے ذریعے پی این ایس سی کے پاس موجود سرمایے کا بہترین اور موزوں ترین استعمال ممکن ہو سکے گا۔حکومت کے مطابق ادارے کی ازسرنو تشکیل کیلئے عالمی معیار کے مالیاتی اور قانونی مشیر مقرر کیے جائیں گے تاکہ پی این ایس سی کو ایک جدید، چست اور پیشہ ورانہ نظم و نسق کا حامل ادارہ بنایا جا سکے۔



کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…