پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے باسمتی چاول اپنے نام رجسٹر کرانے کی بھارتی کوشش بھی ناکام بنا دی

datetime 19  مئی‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)پاکستان نے باسمتی چاول اپنے نام رجسٹر کرانے کی بھارتی کوشش بھی ناکام بنا دی۔وزارت تجارت کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جنرل محمد اشرف نیکہاکہ بھارت کی جانب سے پاکستانی مصنوعات رجسٹرکرانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی،کچھ پراڈکٹس ہیں جو پاکستان کی ہیں اور اگر انہوں نے رجسٹر کروانیکی کوشش کی ہے توہم نے انٹرنیشنل فورم پر انہیں ہرجگہ پہ چیلنج کرتے ہیں اس کی اپوزیشن کا پورا ایک میکانزم ہے،باسمتی پہ ہم نے ان کو ہرفورم پہ چیلنج کیا ہے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ان کی اپلیکشن باقاعدہ ریجکیٹ ہوئی ہیں۔جغرافیائی مصنوعات کی شناخت یعنی جی آئی سے متعلق قومی کانفرنس سے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاپاکستان کی جغرافیائی شناخت سے منسلک مصنوعات کی عالمی سطح پر برانڈنگ کی جائے گی،چھوٹے کسانوں،کاریگروں اورسپلائی چین میں شامل دیگر افراد کو فائدہ پہنچے گا،پاکستان میں دو سو سے زیادہ مصنوعات کی شناخت کی گئی ہے،باسمتی چاول اور سندھڑی آم سمیت بیس کی رجسٹریشن ہوچکی ہے۔وفاقی وزیر نیکہاکہ جغرافیائی شناخت سسٹم پاکستان کی معیشت میں نئی روح پھونک سکتا ہے۔

جی آئی نظام کے فروغ سے مقامی برآمد کنندگان کو زیادہ منافع ہوگا۔ چلغوزہ کو 4 علاقوں میں ممکنہ جی آئی کے طور پر متعارف کیا گیا۔مزیدکہا جغرافیائی مصنوعات کی شناخت مقامی مصنوعات کو عالمی سطح پرمنفرد پہچان دیتی ہے۔پاکستان بیس مقامی مصنوعات کی رجسٹریشن کرکیان کو تحفظ دے چکا ہیجن میں باسمتی چاول، ہمالیہ پنک سالٹ،سندھڑی اورچونسا آم،کھجور،سندھی اجرک،ملتانی مٹی اور سرگودھا کے کینو وغیرہ شامل ہیں۔وفاقی وزیر تجارت نے کہا الحمدللہ 200 پروڈکٹس اڈینٹیفائی ہو چکے ہیں کیبنٹس تھے ان پہ کام ہو رہا ہے 20 ہو چکے ہیں لیکن اس کام کو تیز کرنا ہے ایف ای او کے ساتھ کولائبریریشن کر رہے ہیں، جی آئی نظام کی بہتری کے لیے قومی حکمت عملی تیارکی جا رہی ہے،اس سے پاکستان کی ثقافتی و زرعی وراثت کو تحفظ ملے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…