پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی مالیاتی جریدے نے اقتصادی میدان میں پاکستان کی کارکردگی کو کرشمہ قرار دے دیا

datetime 14  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)عالمی مالیاتی جریدے نے اقتصادی میدان میں پاکستان کی کارکردگی کو معاشی کرشمہ قرار دے دیا۔امریکی اخبار کی سسٹر آرگنائزیشن بیرن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی طرف توجہ نہ دی تو شائد سرمایہ کار بعد میں پچھتائیں، 25کروڑ 50لاکھ آبادی والا یہ ملک گزشتہ دو سال میں معاشی کرشمہ کر چکا ہے۔بیرن نے رپورٹ میں کہا کہ پاکستان میں سالانہ 40فیصد مہنگائی، اب تقریبا صفر ہو چکی ہے،2031میں میچور ہونیوالے پاکستانی یوروبانڈز کی قیمت 40 سینٹ فی ڈالر سے بڑھ کر 80سینٹ ہو گئی ہے، کراچی اسٹاک ایکسچینج انڈیکس تین گنا ہو چکا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف حکومت نے ستمبر میں آئی ایم ایف سے 7ارب ڈالر کے استحکام کے معاہدے پر دستخط کیے، 2ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم پاکستان کو جاری کی جا چکی ہے۔معاشی ماہر خالد سلامی نے کہا کہ بھارت سے تنازع پاکستان کی معاشی بحالی متاثر نہیں کرے گا، ملک کی اپنی کمزور بنیادیں معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ بیرن رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کا حالیہ استحکام 2022-23ء کے قریب دیوالیہ ہونے کے تجربے سے شروع ہوا۔

والٹن کیپٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر ایلسن گراہم نے تجزیہ کیا کہ سب کا خیال تھا سری لنکا کی طرح پاکستان دیوالیہ ہوجائے گا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سود کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 22فیصد کر دی جس سے ملک کساد بازاری میں تو چلا گیا، لیکن مہنگائی پر قابو پا لیا گیا۔ایلسن گراہم نے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار کی شرح گزشتہ سال 2.5فیصد تک واپس آئی، مالیاتی کھاتے غیرمعمولی طور پر متوازن ہیں، کرنٹ اکانٹ مثبت ہے، پرائمری فسکل سرپلس موجود ہے، ایسا ہم نے کئی سالوں میں نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس کی آمدنی میں پچاس فیصد اضافہ کرنا ہے، بجلی کی سبسڈی کم کرنی ہے، اور دیگر مشکل فیصلے لینے ہیں۔بیرن نے کہا کہ حالات نے شہباز شریف اور ان کے فوجی اتحادیوں کو معاشیات اور زندگی کا بہترین محرک فراہم کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…