اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ! صارفین 168 روپے فی لیٹر والا پیٹرول 254.63 میں خریدنے پر مجبور

datetime 17  اپریل‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھانے سے حکومت ہر ماہ سو ارب روپے کمائے گی، مسلسل بڑھتی لیوی سے صارفین 168 روپے فی لیٹر والا پیٹرول 254.63 میں خریدنے پر مجبور ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق حکومت پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف پورا کرنے کے لیے صارفین پر مسلسل بوجھ ڈالنے لگی، عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے کے باوجود مصنوعات سستی نہ کرنے سے حکومت کو لیوی کی مد میں سو ارب روپے ماہانہ اضافی آمدن ہو گی۔

فیصلے سے رواں مالی سال کے اختتام تک لیوی کی مد میں ریونیو گیارہ سو ارب ارب روپے ہو جائے گا جبکہ رواں مالی سال کے لیے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا مقرر ہدف بارہ سو اکاسی ارب روپے ہے۔یوں صارفین پر مسلسل بوجھ سے حکومت ہدف کے قریب پہچننے کو ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ تیس جون تک حکومت کو لیوی کی مد میں سترہ ارب روپے اضافی ریونیو ملنے کا امکان ہے۔لیوی کی مد میں کمائی کے حکومتی فیصلے سے صارفین 168 روپے فی لیٹر والا پیٹرول254 روپے63 پیسے میں خریدنے پر مجبور ہیں، جس میں اٹھہتر روپے لیوی کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں۔

اس وقت آٹھ روپے2 پیسے اضافے کے بعد حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 78 روپے دو پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 7 روپے ایک پیسہ اضافے کے بعد 77 روپے ایک پیسہ فی لیٹر لیوی وصول کر رہی ہے۔مٹی کے تیل پر سات روپے ننانوے پیسے اضافے کے بعد اٹھارہ روپے پچانوے پیسے، لائٹ ڈیزل پر لیوی سات روپے باسٹھ پیسے اضافے کے بعد پندرہ روپے سینتیس پیسے فی لیٹر لیوی وصول کر رہی ہے جبکہ ہائی اوکٹین آئل پر لیوی آٹھ روپے دو پیسے بڑھا کر اٹھہتر روپے دو پیسے کر دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…