پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کو کرپٹو کرنسی پر قانون سازی کیلئے 2 ماہ کی مہلت

datetime 11  اپریل‬‮  2025 |

پشاور (این این آئی) پشاور ہائی کورٹ نے کرپٹو کرنسی پر قانون سازی کے لیے حکومت کو 2 ہفتے کی مہلت دے دی۔جمعہ کو کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی کاروبار کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے کی، جس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اس حوالے سے قانون سازی کررہی ہے، ایک مہینے کا وقت دیا جائے۔

جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ 2 مہینے کا وقت دیتے ہیں، قانون سازی کریں۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو کرپٹوکرنسی کے حوالے سے قانون سازی کے لیے 2 مہینے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت قانون سازی کرے اور رپورٹ جمع کرائے۔دورانِ سماعت درخواست گزار بیرسٹر حذیفہ احمد نے مقف اختیار کیا کہ ملک میں کرپٹو کرنسی کی غیر قانونی آن لائن کاروبار ہو رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے 2018 میں اس کاروبار کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں کرپٹو کرنسی کے کوچنگ اور ٹریننگ سینٹرز کام کر رہے ہیں۔درخواست گزار نے کہا کہ یہ تمام سینٹرز حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں، غیرقانونی طور پر کام کررہے ہیں۔ چین، مراکش، الجیریا سمیت دیگر ممالک نے کرپٹو کرنسی کے کاروبار پر پابندی عائد کردی ہے۔ حکومت نے اس کے لیے جو اسٹریٹیجک ایڈوائزر رکھا ہے وہ امریکا سے سزایافتہ ہے۔جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ یہاں تو مسئلہ یہ ہے۔بیرسٹر حذیفہ احمد نے مقف اختیار کیا کہ اس قسم کا کاروبار ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ حکومت کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کاروبار پر پابندی عائد کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…