اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اب تمام پاکستانی تنخواہ دار شہری گھروں میں بیٹھ کر ٹیکس فائل کرسکیں گے، کسی وکیل کی ضرورت نہیں ہوگی، ٹیکسیشن کے امور آسان بنا رہے ہیں،تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس فارم کے حوالے سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ نان ایپلی کیبل کر دیں، آپ پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا،ٹیکس سسٹم میں شفافیت لانے کے لیے انسانی مداخلت کم سے کم کرکے ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹرانسپیرنٹ سسٹم متعارف کروانا ضروری ہے، ایک بار ٹیکس جمع کرنے سے کام نہیں چلے گا، ٹیکس کلیکشن کی پائیداری کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے،آئی ایم ایف کا وفد گورننس کے ایشو پر پاکستان آیا ہے، آئی ایم ایف کا وفد بجٹ پر بات چیت نہیں کرے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ گورننس کے لیے اہداف پہلے سے طے ہیں،امریکا کے ساتھ ٹیرف کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورت حال پر بات چیت کے لیے اعلی سطح کا وفد امریکا جائے گا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس فارم کے حوالے سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ نان ایپلی کیبل کر دیں کہ آپ پر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا، حالاں کہ کیسے ٹیکس ایڈوائزر سے مشورہ کیے بغیر ہم یہ لکھ سکتے ہیں، ٹیکس کے وکلا اور مشیروں کو احترام کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ اس جانب توجہ دیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس سسٹم میں شفافیت لانے کے لیے انسانی مداخلت کم سے کم کرکے ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹرانسپیرنٹ سسٹم متعارف کروانا ضروری ہے، ایک بار ٹیکس جمع کرنے سے کام نہیں چلے گا، ٹیکس کلیکشن کی پائیداری کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد گورننس کے ایشو پر پاکستان آیا ہے، آئی ایم ایف کا وفد بجٹ پر بات چیت نہیں کرے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ گورننس کے لیے اہداف پہلے سے طے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ٹیرف کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورت حال پر بات چیت کے لیے اعلی سطح کا وفد امریکا جائے گا، امریکی ٹیرف کے بعد امریکا سے بات چیت کا نیا پیکج تیار کر رہے ہیں، امریکی ٹیرف کے بعد اسٹئیرنگ کمیٹی بنائی گئی ہے، امریکا کے ٹیرف لگانے کے بعد ورکنگ گروپ بنایا گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم نے 24 سرکاری کاروباری اداروں (ایس ای اوز) کو نجکاری کمیشن کے حوالے کر دیا ہے، خسارے میں جانے اور خزانے کو چوسنے والے ان اداروں کی نجکاری کی جائے گی، پی آئی اے کی دوبارہ نجکاری کی جائے گی، امید ہے کہ دوسرا مرحلہ ثمرآور ثابت ہوگاکیوں کہ اب یورپی روٹس بھی کھل چکے ہیں، روزویلٹ ہوٹل کے حوالے سے بھی بات کی جاسکتی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے جو مشکل فیصلے کرنے تھے، وہ نہیں کیے، ہم معاشی استحکام کو اب پائیدار استحکام میں تبدیل کرنا ہے، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو رہے ہیں، معیشت درست سمت میں گامزن ہے، شرح سود 22 فیصد سے کم ہوکر اب نصف رہ گئی ہے، جس سے صنعت کاروں کو فائدہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بزنس کانفیڈنس، کنویومر کانفیڈنس کے حوالے سے جو بات ہوئی، بزنس کانفیڈنس انڈیکس بہتر ہونے کا دعویٰ حکومت نے نہیں کیا، وہ آزادانہ سروے میں کیا گیا، جب ہمارے لوکل انویسٹرز سرمایہ کاری کریں گے، تو آپ دیکھیں گے حالات تیزی سے مزید بہتری کی جانب جائیں گے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں نئے سرمایہ کار آرہے ہیں، مارکیٹ میں مزید بہتری دیکھی جارہی ہے، عیدالفطر پر جو اقتصادی سرگرمیاں بڑھی ہیں، اس کے حوالے سے حکومت نے سروے کروایا، 872 ارب کی خریداری کی گئی، جب کہ گزشتہ سال عید پر 820 ارب کی خریداری کی گئی تھی۔