جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

کب تک بیرونی قرض کے سہارے ملک کوگھسیٹا جاتا رہے گا، واجب الادا رقم جی ڈی پی کے 94 فیصد سے بڑھ چکی ،تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 18  اپریل‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ کب تک بیرونی قرض کے سہارے ملک کوگھسیٹا جاتا رہے گا، ایسی صورتحال غیر تسلی بخش ہوتی ہے جہاں قرض خواہوں کو یقین دلانے کے لیے دوسرے ملکوں اور اداروں کی سفارش کروانا پڑے ،اگر سفارشی آئی ایم ایف ہو تو

پھر ملک کا اللہ ہی حافظ ہے کیونکہ آئی ایم ایف کی پالیسیاں ایسی ہوتی ہیں کہ سارا بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیاںایک سال تک موخر ہونے سے ساڑھے تین ارب ڈالر کے عارضی ریلیف سے بھی کوئی بڑا فائدہ نہیں ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاقات کیلئے آنے والے تاجر تنظیموں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے قرضوں کی حالت بے حد خراب ہو چکی ہے کیونکہ واجب الادا رقم جی ڈی پی کے 94 فیصد سے بڑھ چکی ہے۔ یہ صورتِ حال ایسے ملک کے لیے مزید خطرناک ہو جاتی ہے جو پرانے قرض اتارنے کے لیے نئے قرض لینے پر مجبور ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف ملکی قرضوں میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف اڑھائی سالو ں میں چھٹا نیا چیئرمین ایف بی آر آ گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے مالی سال 2022 کے لیے چھ کھرب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے حاصل کیسے کیا جائے گا؟ کسی بھی ادارے کو کامیابی سے چلانے کے لیے مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت میں اس کی سب سے زیادہ کمی نظر آتی ہے۔ نیا چیئرمین آ کر نئی ٹیکس پالیسی بناتا ہے اور ابھی وہ مکمل طور پر اپنی پالیسی کو چلا بھی نہیں پاتا کہ اسے تبدیل کر دیا جاتا ہے اور کوئی دوسرا

چیئرمین آ جاتا ہے۔ چھ چیئرمین آ چکے ہیں لیکن پالیسی ابھی تک واضح نہیں ہے کہ چھ کھرب روپے ٹیکس کیسے اکٹھا ہو گا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اِن ڈائریکٹ ٹیکسز لگا کر ہدف پورے کرنے کا قلیل مدتی منصوبہ پیش کر دیا جاتا ہے۔ جس سے ایف بی آر کے بابوئوں کی جان تو چھوٹ جاتی ہے لیکن ٹیکس دینے والے عوام اس شکنجے میں پھنس جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اِن ڈائریکٹ ٹیکسز سے ہی ملک چلانا ہے تو پھر ایف بی آر میں افسروں کی اتنی بڑی فوج کی کیا ضرورت ہے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…