جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کاشت کاروں کے اخراجات میں اضافے سے غذائی اجناس کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ متوقع، کسانوں سے کیا چیز وصول کی جائے گی؟ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے منظوری دے دی

datetime 20  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کسانوں سے فیول پرائس لیوی وصول کرنے کی منظوری دے دی۔کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کسانوں سے 8.25 ملین ٹن گندم 1365 فی من کے نرخوں پر خریدنے اور ٹیوب ویلوں میں استعمال ہونے والی بجلی پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی لیوی کے ماضی سے نفاذ کی منظوری دے دی۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی پانچ لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے نجی شعبے کو گندم درآمد کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیاز کی برآمد پر پابندی عائد کر دی تاہم سرخ مرچ کی برآمد پر پابندی کی تجویز رد کر دی جس کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ کسانوں سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ لیوی کی وصولی کا فیصلہ سبسڈی کی فراہمی میں ناکامی کے بعد کیا گیا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق کسانوں سے چھ ماہ کے عرصے میں یہ رقم وصول کی جائے گی۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک ماہ میں ایک روپے فی یونٹ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں وصول کئے جائیں گے اور باقی رقم اگلے بجلی کے بلوں میں شامل کی جائے گی۔ تمام رقم جنوری تا جون 2019ء کے بلوں کی مد میں وصول کی جائے گی۔ ای سی سی کے ان فیصلوں کی وجہ سے کاشت کاروں کے اخراجات بڑھ جائیں گے جس کے نتیجے میں بنیادی غذائی اجناس کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…