جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کی ہدایت پر تیار بجٹ عوام پر بجلی بن کر گرے گا : پیاف عہدیداران

datetime 11  مئی‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی )پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف)نے آئی ایم ایف کی ایما ء پر آئندہ مالی سال 2019-20کے بجٹ کی تیاری میں آئی ایم ایف کی ہدایات اور ان کے مطالبات کی منظوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی ہدایت پر تیار بجٹ عوام پر بجلی بن کر گرے گا، حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں 750 ارب روپے سے زائد کے نئے

ٹیکس لگانے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیرنے کہا آئی ایم ایف کی شرائط پر بجلی و گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکسوں کی بھر مار سے عوام کا جینا دوبھر ہوائے گا۔ روپے کی مزید بے قدری کی خبریں بھی تشویشناک ہیں،مزید بے قدری سے بہت سے معاشی مسائل پیدا ہونگے ۔مجوزہ ٹیکسوں سے صنعت و تجارت سے وابستہ افراد سمیت عوام متاثر ہو گی اور انکی قوت خرید ختم ہو جائے گی۔ پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے عوام ابھی سنبھلنے بھی نہ پائے ہیں کہ حکومت کی طرف سے دو سال تک بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی نوید نے عوام کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے ۔ وائس چیئرمین ناصر حمید اور جاوید اقبال صدیقی نے کہا کہ عوام تبدیلی کی توقع کر رہے تھے لیکن تبدیلی کے نام پر ان پر ٹیکسوں کا ہوشربا بوجھ ڈالا جارہا ہے جس سے ان کی قوت خرید بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔خود انحصاری اور کفایت شعاری کی پالیسی کو اپنایا جائے۔ آئی ایم ایف کی مہنگائی لانے والی شرائط ہر گز قبول نہ کی جائیں۔انہوںنے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے8ارب ڈالر کے قرضوں سے ملک میں کبھی خوشحالی نہیں آئے گی۔خودانحصاری اور کفایت شعاری کی پالیسی کو اپنایا جائے اور آئی ایم ایف کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہا جائے کیونکہ ان کی شرائط پر عمل پیرا ہوکر عوام کو بدحالی کی طرف گامزن کردیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…