جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سال 2020 تک قرضوں کاحجم بڑھ کر 76فیصد ہونےکا خدشہ ہے : موڈیز

datetime 14  دسمبر‬‮  2018 |

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) موڈیزکاکہنا ہےکہ معیشت کو بیرونی خدشات لاحق ہیں ، حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ا صلاحات وقت کی ضرورت ہیں، معاشی اصلاحات مشکل اقدام ہیں تاہم یہ ہی معشیت میں بہتری کا باعث بنیں گی، 2020 تک قرضوں کاحجم بڑھ کر 76فیصد ہونےکا خدشہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیزکی پاکستان پررپورٹ جاری کردی ہے ، جس میں کہا گیا ہے۔

پاکستانی معیشت کوبیرونی خدشات لاحق ہیں، پاکستان کےپاس قرضوں کی واپسی کی یقین دہانی کم ہوگئی، بیرونی دباؤکی وجہ بڑھاہواجاری کھاتوں کا خسارہ ہے۔ موڈیز کا کہنا ہے کہ خسارےکےباعث زرمبادلہ ذخائرمیں مسلسل کمی ہورہی ہے، زرمبادلہ کےذخائرمیں جلدبہتری کی امیدنہیں، زرمبادلہ ذخائرمیں کمی سے قرض ادائیگی کی صلاحیت منفی ہورہی ہے، خسارے میں کمی کیلئے درآمدات کم کرنا ہوں گی کم ہوتے زر مبادلہ ذخائر معاشی خدشات کو بڑھاوا دیتے ہیں کرنسی کی قدر بھی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی اکنامک اسٹرنتھ معتدل ہے ، صنعتی اورزری طاقت بہت کم جبکہ دیگرخدشات بھی لاحق ہیں، جاری کھاتوں کےخسارے میں نمایاں کمی متوقع نہیں اور آئی ایم ایف نےکم از کم سطح 3ماہ کےدرآمدی کےبرابررکھی ہے۔ موڈیز کے مطابق رواں مالی سال معاشی شرح نمو 4.3سے 4.7تک رہےگی اور آئندہ مالی سال میں معاشی شرح نمومیں اضافہ متوقع ہے جبکہ ، 2020میں معاشی شرح نمو 5.8 فیصد رہنے کاامکان ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کےبیرونی قرضوں کاحجم جی ڈی پی کا 72فیصدہوگیا اور 2020تک قرضوں کاحجم بڑھ کر 76فیصد ہونےکا خدشہ ہے ، مستقبل میں پاکستان کی معاشی شرح نمو میں بہتر ی متوقع ہے۔ موڈیز کا کہنا ہے کہ بجلی فراہمی ،انفرااسٹرکچراورامن وامان کی صورتحال بہترہوئی اور سی پیک منصوبہ معاشی ترقی میں اضافے کاباعث بن رہاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…