منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کو ’سی پیک‘ کی وجہ سے بیرونی دباؤ کا سامنا ہے، موڈیز

datetime 25  اگست‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کا کہنا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں سرمایہ کاری اور بڑھتی ہوئی برآمدات کی وجہ سے پاکستان کو بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے ایک تجزیہ جاری کیا جس میں اس نے اخذ کیا کہ بیرونی دباؤ بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کے کم ہوتے

ذرِ مبادلہ کے ذخائر کا مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔ موجودہ مالی سال 2018 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 ارب ڈالر ہے، جس نے ملکی بیرونی ذمہ داریوں میں رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے ذرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی کی ہے۔ موڈیر نے پاکستان کی ریٹنگ منفی کردی پاکستان کی نئی منتخب حکومت نے بیل آؤٹ پیکیج کے لیے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ دریں اثنا چین اور چینی بینکوں سے قرضے لینے کا آپشن بھی اس کے پاس زیرِ غور ہے۔ پاکستانی معیشت کے لیے درآمدات گہری تشویش کا باعث رہی ہیں، جن پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور نگراں حکومت کی جانب سے تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کے باوجود قابو نہیں پایا گیا۔ موڈیز کے مطابق مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی کیپیٹل گڈز کی طلب سے پاکستان پر درآمدات کا دباؤ بڑھ رہا ہے، اور یہ درآمدات سی پی پیک سے متعلقہ بھاری سرمایہ کاری کی وجہ سے بڑھی ہیں۔ موڈیز: پاکستان کی ’بی تھری‘ ریٹنگ برقرار چین سے 11 ارب 45 کروڑ ڈالر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے 9 ارب ڈالر برآمدات دیکھنے میں آئی تاہم یو اے ای سے ہونے والی برآمدات مین کیپیٹل گڈز شامل نہیں ہیں۔ موڈیز کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5.7 فیصد ہے تاہم یہ آئندہ برس 4.8 فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے۔ موڈیز کے مطابق بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے زرمبادلہ کے ذخائر موزوں ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان بھاری بیرونی قرضے ادا کرتا رہا ہے اور رواں مالی سال بھی اسے 7 ارب 50 کروڑ ڈالر کے قرضے ادا کرنے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…