پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی؛انفراسٹرکچر اور نظام زندگی کی بہتری کیلئے کراچی کو 10 سال میں 10 ارب ڈالرز درکار ہوں گے،ورلڈ بینک

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

کراچی(آن لائن)ورلڈ بینک نے کراچی کے انفرا اسٹرکچر اور خدمات کی فراہمی میں 10سال کے دوران 9 سے 10 ارب ڈالرز کی مالی معاونت کا تخمینہ لگایا ہے۔یہ رقم ٹرانسپورٹ، فراہمی آب،صحت و صفائی اور میونسپل سالیڈ ویسٹ مینجمنٹ کیلئے درکار ہوگی۔بد ھ کو ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی ایک کروڑ 60 لاکھ کی آبادی کیساتھ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے .

جہاں معیار زندگی نہایت زوال پذیر ہے۔شہر اقتصادی بدحالی کا شکار ہونے کیساتھ بنیادی خدمات کی فراہمی انتہائی ناقص ہے۔آلودگی نے سنگین صورت اختیار کرلی۔تباہ کاریوں اور موسمی تبدیلیوں سے کراچی کو تحفظ حاصل نہیں۔اقتصادیات پیچیدہ سیاسی نوعیت کی ہے۔ ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق زمین کے جھگڑے،جرائم،عدم تحفظ اور ایسے ہی معاملات نے شہر کے انتظام کو ایک چیلنج بنا دیا ہے۔خدمات کی بجا آوری غیرواضح ہونے،ایک دوسرے کے حدود اختیار سے تجاوز اور شہری حکمرانی کی ذمہ دار مختلف ایجنسیوں میں عدم تعاون نے شہر کی صورتحال کو بدترین کر دیا ہے۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر 20 ادارے کام کر رہے ہیں جو آپس میں مربوط نہیں ہیں۔ان ایجنسیوں کے پاس کراچی کی 90 فیصد اراضی کا کنٹرول ہے لیکن انہیں ترقی دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ منتخب بلدیاتی حکومتوں کا نظام کمزور اور صلاحیتیں محدود ہیں۔ انہیں اپنی خدمات بجا لانے کا تک اختیار نہیں ہے۔کاموں پر زیادہ کنٹرول سندھ کی صوبائی حکومت کا ہے جس میں ماسٹر پلاننگ، بلڈنگ کنٹرول، واٹر اینڈ سیوریج، سالیڈ ویسٹ مینجمنٹ اور اراضی کی ترقی اور انتظام کے امور شامل ہیں۔بلدیاتی حکومتیں مالی اعتبار سے نہایت کمزور ہیں۔ مالیات کے لئے مکمل دارومدار صوبائی حکومت پر ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…