جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جب پاکستان اور بھارت میں کوئی فرق ہی نہیں رکھاجارہا تو پھر؟پاکستان نے چین کے ساتھ اہم ترین معاہدے پر نظرثانی کا اعلان کردیا

datetime 10  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی) وفاقی وزیر تجارت پرویز ملک نے کہا ہے کہپاکستان موجودہ آزادانہ تجارتی معاہدے کے تحت چین سے ابتدائی پیداوار کے پروگرام کا مطالبہ کرے گا جس میں پاکستان کی برآمدات کے مفاد کے لحاظ سے 100 مصنوعات شامل ہیں،پاکستان رواں ماہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے سیکرٹریز سطح کے مذاکرات کے دوران چینی حکام کو آزاد انہ تجارتی معاہدے کو کم از کم باہمی اصولوں کی بنیاد پر دوبارہ فعال کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرے گا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک انٹرویو میں وزیر تجارت نے کہا کہ سیکرٹری تجارت یونس ڈھاگا سیکرٹری سطح کی بات چیت میں پاکستانی ٹیم کی سربراہی کریں گے۔چین اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے مابین ہونے والے معاہدوں نے پاکستان کے ترجیحاتی معاہدوں کی اہمیت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ چین ایف ٹی اے کے تحت 3.5 فیصد ڈیوٹی پر پاکستان سے سوت درآمد کر رہا ہے جبکہ بھارت سے بغیر کسی معاہدے کے اسی ڈیوٹی پر سوت درآمد کر رہا ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کے لیے چین کے ساتھ ایف ٹی اے تقریباً بے کار ہے تاہم وزارت خزانہ نے اس حوالے سے کئی تجاویز تیار کی ہیں جو مذاکرات کے آئندہ دور میں پیش کی جائیں گی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کو دورہ چین سے قبل اس مسئلے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا جبکہ وزارت تجارت، پاک چین تجارتی معاہدے کو مزید فائدہ مند بنانے کے لیے دفترخارجہ سے بھی مدد لے گی۔وفاقی وزیرِ تجارت پرویز ملک نے بتایا کہ تھائی لینڈ کے ساتھ ایف ٹی اے معاہدہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے جبکہ ان معاہدوں میں پاکستان کی مقامی صنعتوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ تھائی لینڈ پاکستان کے چاول اور آٹو سیکٹر کی منڈیوں تک رسائی چاہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…