جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کیلئے راستے بند،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 22  اگست‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)ایف پی سی سی آئی کی ریجنل کمیٹی برائے صنعت کے چئیرمین عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے سستے مزدوروں کی کثرت، قطر اور خلیج تعاون کونسل کے مابین اختلافات میں پاکستان کی غیر جانبداری اور امریکی پالیسی میں تبدیلی سے ترسیلات زر میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔عاطف اکرام شیخ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ہمارا ملک خلیج تعاون کونسل کے ممالک سعودی عرب، متحدہ ارب امارات، کویت، امان، بحرین اور قطر سے تمام ترسیلات کا 63 فیصد یعنی 12.1 ارب ڈالر وصول کرتا ہے

مگر بدلتے ہوئے حالات میں ان ممالک پر ضرورت سے زیادہ انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ 28 فیصد ترسیلات سعودی عرب سے موصول ہوتی ہیں جہاں سیاسی اور معاشی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور حکومت تیل کی آمدنی پر اپنا انحصار کم کر رہی ہے اور تمام غیر ملکیوں کے بیوی بچوں پر ایک سو ریال فی کس ٹیکس بھی نافذ کر دیا گیا ہے جس کا بڑا منفی اثر پڑا ہے۔2016 میں ماہانہ 38 ہزار مزدور سعودی عرب جاتے تھے جنکی تعداد اب 13 ہزار مزدور ماہانہ رہ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات جہاں سے 22 فیصد ترسیلات موصول ہوتی ہیں بھی اپنی معیشت کو بدل رہا ہے اور اب وہاں مزدوروں کے بجائے پیشہ ور افراد کی مانگ زیادہ ہے۔اس ملک نے بھی بھارت سے تعلقات بڑھانے کیلئے وہاں سے مزدوروں کی درامد بڑھا دی ہے جس سے پاکستانی لیبر کی طلب کم ہوئی ہے۔ پاکستان کو امریکہ اور برطانیہ سے ملنے والی مجموعی ترسیلات سعودی عرب کے برابر ہیں مگر امریکی صدر کی پالیسی میں غیر ملکیوں پر انحصار کم کر کے مقامی افراد کو ملازمتیں دینا شامل ہے۔ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد سے پاکستانی زیادہ تعداد میں امریکہ نہیں جا رہے ہیں جبکہ برطانیہ بھی اپنے شہریوں میں بے روزگار ی کم کرنا چاہتا ہے جس سے پاکستان سے روزگار کیلئے وہاں جانے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ان حالات میں ترسیلات میں اضافہ مشکل ہے اسلئے حکومت کو ہنر مند افرادی قوت، ڈاکٹروں، انجینئیرز، ٹیکنیشنز وغیرہ کی برامد اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…