ہفتہ‬‮ ، 27 جون‬‮ 2026 

شوگر مافیا پھر متحرک،دنیا میں چینی36پاکستان میں 62روپے کلو

datetime 29  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) پٹرولیم مصنوعات کی طرح عالمی سطح پر گرتی ہوئی چینی کی قیمت کافائدہ عوام تک نہیں پہنچایا گیا،اس وقت دنیا میں چینی کی قیمتیں سب سے زیادہ کم ہوئیں ہیں ،ایک اندازے کے مطابق بیرون ممالک میں 36 روپے فی کلو چینی فروخت ہو رہی ہے تاہم پاکستان میںہول سیل قیمت 57 روپے ہے جبکہ پرچون پر 60 روپے سے 64 روپے تک فروخت کی جارہی ہے ۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں انکشاف کرتے ہوئے میزبان نے کہا کہ پاکستان میں شکر کے کارخانوں پر سیاسی اثرروسوخ ہے، سیاست دان چینی کے کارخانوں میں سب سے زیادہ فوائد حاصل کررہے ہیں ،شوگرمافیا کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو نہیں بلکہ براہ راست سیاست دانوں کو فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ حکومت نے گزشتہ سال2014 میں مقامی مارکیٹ میں چینی قیمت بڑھانے کے لئے چینی ایکسپورٹ پر دس روپے فی کلو سبسڈی دینے کا اعلان کیا جبکہ گزشتہ سال ہی عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمت کم ہورہی تھی۔ حکومت نے گزشتہ سال 12 نومبر 2014ءکو چینی کارخانوں کو تحفظ دینے کے لئے چینی مگنوانے پر20 فیصدکسٹمزڈیوٹی عائدکردی تا کہ سستی چینی کہیں پاکستان میں نہ آجائے،گزشتہ ماہ رمضان میں عالمی مارکیٹ میں چینی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوئی جس پر حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے چینی منگوانے پر20 فیصد سے 40 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کر دی تا کہ کسی صورت سستی چینی پاکستان میں نہ آ سکے۔شوگرمالکان حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور زبردست منافع کما رہے ہیں،حکومت کے اس اقدام سے قبل چینی 45 روپے فی کلو مل رہی تھی لیکن اس کے بعد 62 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ،رواں مالی سالی بجٹ میں چینی کی درآمد پر20 فیصدریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد کر دی،اس سارے اقدام میں حکومت نے براہ راست حصہ لیا ہے یہی وجہ ہے کہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے تاہم اس کا فائدہ پاکستان کی عوام کو نہیں پہنچایا گیا،پاکستان چینی کی پیداوار میں خود کفیل ہے اس کے باوجود پاکستان میں چینی مہنگی دی جارہی ہے

مزید پڑھئے:دنیائے فلسفہ کا عظیم اور جلیل المرتبت معلم سقراط

،یہ ساری صورت حال پاکستان ملز مالکان کے منافعوں پر فرق نہ پڑے اور اسی اندازمیں منافع کماتے رہیںجیسے وہ اس سے پہلے کماتے رہیں،جتنے بھی اقدامات ہوئے ہیں وہ حکومت کی طرف سے کئے گئے ہیں بلکہ فیڈرل سطح پر ہوئے ہیں،ای سی سی نے14 نومبر2014شوگرکرشنگ شروع ہوتے ہی5 لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کی اجازت دے دی تاکہ ملز مالکان کو فائدہ پہنچایا جا سکے تاہم چند ماہ میں 5 لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کو بڑھا کر ساڑھے6 لاکھ کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…