ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

شہزاد اکبر نے ڈیلی میل کی جانب سے مقدمے سے دستبرداری کو سیٹلمنٹ قرار دیدیا

datetime 8  دسمبر‬‮  2022 |

لاہور(این این آئی)سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے ڈیلی میل کی جانب سے مقدمے سے دستبرداری کو سیٹلمنٹ قرار دے دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں شہزاد اکبر نے کہا کہ کیس میں جب نیب ہی لیٹ ہوگیا تو ڈیلی میل کیا کرتا؟،ڈیلی میل کہہ رہا ہے کہ نیب نے تو شہباز شریف کو چارج ہی نہیں کیا۔ڈیلی میل نے کہا کہ

چونکہ نیب نے شہباز شریف کو برطانوی حکومت یا اس کے ادارے ڈیفڈ کے مال کو خرد بردکرنے کے الزام پر چارج نہیں کیا لہٰذاادارہ اس الزام کی حد تک معذرت خواہ ہے اور تصحیح کرتا ہے۔سابق مشیر احتساب نے لکھا کہ جب نیب نے چارج نہیں کیا تو برطانوی حکومت یا ڈی ایف آئی ڈی چارج کیسے کرتی؟، ڈیلی میل لکھتا ہے کہ متاثرین کے فنڈزمیں خرد برد کے الزام کی حد تک معذرت خواہ ہے۔شہزاداکبر نے کہا کہ اس کیس میں شہبازشریف نے عدالت کاجرمانہ بھی ادا کردیاہے،اب کوئی ان سے تصدیق کرلے، میری نظر میں ڈیلی میل کی معذرت مقدمے کی سیٹلمنٹ لگتی ہے۔ واضح رہے کہ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے وزیر اعظم شہباز شریف سے معافی مانگ لی۔برطانوی اخبار ڈیلی میل نے 14 جولائی 2019 کو ایک آرٹیکل میں الزام لگایا تھا کہ شریف خاندان نے سیلاب زدگان کے فنڈز میں چوری کی۔ڈیلی میل کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب)کی جانب سے شہباز شریف کے متعلق تحقیقات کی اطلاع دی گئی تھی، قومی احتساب بیورو نے کہا تھا کہ چوری ہونے والی رقم میں ڈی ایف آئی ڈی کی سیلاب زدگان کیلئے دی گئی گرانٹ بھی شامل تھی،اب ڈیلی میل نے شہباز شریف سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ قبول کرتے ہیں کہ شہباز شریف نے کوئی غلط کام نہیں کیا، شہباز شریف سے معذرت خواہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…