پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی سے فلمسازی کا عمل شروع ہوچکا ہے،حیا علی

datetime 29  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) اداکارہ وماڈل حیاءعلی نے کہا ہے کہ ٹی وی کے فنکاروں کا خود کوفلم اسٹار منوانا کوئی آسان بات نہیں۔ ایک فلم اسٹارجب ڈرامے میں کام کرتا ہے تواس کی پہچان فلم اسٹارکی ہی رہتی ہے جب کہ ٹی وی ڈراموں کے اداکاراب فلموں میں دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کی ایک بھی ادا ’ فلم اسٹار‘ جیسی نہیں۔ یہاں کردارکی ڈیمانڈ کے مطابق فنکاروں کا انتخاب نہیں بلکہ لابی سسٹم کے تحت ” رول “دیے جاتے ہیں۔ان خیالات کااظہار حیاءعلی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی سے فلمسازی کا عمل شروع ہوچکا ہے اورشائقین کی بڑی تعداد سینما گھروں میں دکھائی دے رہی ہے۔ ٹی وی انڈسٹری سے وابستہ لوگوں نے فلمسازی کے شعبے میں قدم رکھا ہے جو خوش آئند بات ہے اورشاید اسی لیے وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ فلمیں بنانے کوترجیح دے رہے ہیں لیکن جب ایک فلم بنتی ہے تواس کی کہانی اورکردارکے مطابق اگرفنکاروں کو کاسٹ کیا جائے تواس کے نتائج سینما ہال میں بیٹھے شائقین کی مسکراہٹ اورتالیوں کی شکل میں دکھائی اورسنائی دیتے ہیں۔مگرہمارے ہاں اس پرکوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی۔ ٹی وی پرکام کرنیو الے بہت سے اداکاراوراداکاراو¿ں کو فلموں میں متعارف کروایا گیا ہے لیکن شائقین کو ان میں ایک بھی فلم اسٹاردکھائی نہیں دیاگیا۔ دوسری طرف اداکارشان، معمررانا، ریشم، میرا اورصائمہ بڑی اسکرین کے ساتھ جب چھوٹی اسکرین پربھی دکھائی دیتے ہیں توسب کے منہ پران کے نام سے پہلے فلم اسٹار ا?جاتا ہے۔ یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے جو فلم اسٹارز کے حصے میں آتی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے فلمسازی کے شعبے میں بہت کام ہورہاہے مگراس میں زیادہ ترٹی وی سے وابستہ فنکاروں کو سائن کیا جارہا ہے ، اگران کی جگہ نئے چہروں کو فلموں میں متعارف کروایا جائے اورکرداروں کی ڈیمانڈ کے مطابق سینئر فنکاروں کو بھی فلموں کا حصہ بنایا جائے تواس کے مثبت نتائج سامنے آئینگے۔ ہمارے نوجوان فلم میکرز کویہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ٹی وی اورفلم سازی میں زمین اورآسمان کا فرق ہے۔ اگرٹی وی کی تکنیک پرفلمیں بنانے کا سلسلہ جاری رہا توپھر سینما گھروں میں دکھائی دینے والے شائقین دوبارہ سے اپنے گھروں میں قید ہوج جائیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…