جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مریخ کے سفر کے لیے خلائی بازوں کی انتہائی اہم پیش رفت

datetime 11  اگست‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلابازوں نے پہلی بار خلا میں ہی اگئی ہوئی سبزی کھائی جسے مریخ کے طویل سفر کے لیئے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی جانب سے ٹوئٹر پر خلابازوں کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جن میں 3 خلا بازوں کو خلائی اسٹیشن میں اگائے گئے سلاد کے پتے کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس تجربے کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ آیا خلا میں اگائی گئی سبزیاں کھائی جاسکتی ہیں یا نہیں۔ بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن پر 15 ماہ قبل سلاد کے بیج بھیجے گئے تھے جنہیں جولائی میں بویا گیا تھا جب کہ اس سے قبل خلا میں سبزیاں اگائے جانے کے تجربات پہلے بھی ہو چکے ہیں تاہم یہ پہلا موقع تھا کہ خلا میں اگائی جانے والی غذا خلا ہی میں استعمال ہوئی۔
سائنس دانوں کے مطابق خلا میں طویل فاصلے کی مسافتوں میں خوراک کی خلا ہی میں پیداوار ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے اور مستقبل میں مریخ کے سفر کے لیے بھی خلا میں اگائی گئی سبزیاں خلابازوں کے لیے ایک اہم سہارا ہوں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا میں تازہ سبزیوں کا استعمال اس کی غذائی افادیت کے ساتھ ساتھ خلانوردوں کی نفسیاتی صحت کے لیے بھی مفید ہے جو کئی ماہ تک اپنے پیاروں، دوست احباب اور زمین سےدور رہتے ہیں۔ ناسا کے مطابق اس طرح نہ صرف خلابازوں کو روزانہ کی بنیاد پر تازہ کھانا فراہم کیا جاسکتا ہے بلکہ اس سے خلا میں رہنے والوں کو زمین پر رہنے جیسا احساس بھی ہوگا جو ان کے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرے گا۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی خلائی مرکز میں تازہ سبزیاں اور پھل مثلاً گاجریں اور سیب ہر سپلائی کے ساتھ پہنچائے جاتے ہیں تاہم ان کی مقدار محدود ہوتی ہے اور انہیں فوری طور پر کھانا ہوتا ہے۔ خلا میں سبزیاں اگانے کے لیے ایک خصوصی ”ویجی سسٹم“ بنایا گیا ہے جس میں نیلی، سبز اور سرخ ایل۔ای۔ڈی بتیاں لگی ہوئی ہے۔ سرخ اور نیلے رنگ کی ایل ای ڈی سے روشنی کے زیادہ اخراج کی وجہ سے تصویر میں سلاد کا رنگ گلابی دکھائی دے رہا ہے، سبزیاں اگانے کے اس نظام میں روشنی اور ایک خاص گیس اور حرارت فراہم کی گئی ہے جس سے سبزیوں کی نشونما کو مدد ملتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…