جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی مسلمان بچے نے ایک ایسا کانامہ کردیا جس سے دنیا رہ گئی حیران!۔

datetime 7  دسمبر‬‮  2014 |

نئی دلی: بھارت میں  ساتویں جماعت کے مسلم طالب علم نے ایک ایسا جوتا تیار کیا ہے جو اس قدر آرام دہ ہے کہ اس کے پہننے سے ٹخنوں کے درد میں کمی واقع ہوتی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست تلنگانہ کے ضلع نظام آباد کے ساتویں جماعت کے 11 سالہ طالب علم مزمل پاشا جب اپنے دادا اور چچا کے پاؤں کی تکلیف دیکھتا تو اس سے رہا نہ جاتا اور وہ سوچتا کیوں نہ انہیں ایسا جوتا مل جائے جس کے پہننے سے ان کا درد ختم ہوجائے، اپنی اسی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس نے ان کے جوتوں کا ڈیزائن تبدیل کرنے کی ٹھان لی۔

مزمل کے والد چاند پاشا کا کہنا تھا کہ اس نے انٹرنیٹ پر ایسے جوتے تلاش کرنے کی بہت کوشش کی جو  ٹخنوں کے درد کو کم کر سکے لیکن اسے کامیابی نہ ملی تو اس نے اس حوالے سے اپنے بیٹے کی رہنما ئی کی اور پھر مزمل کا تیار کردہ جوتے کا فرضی خاکہ نیشنل انوینشن فاؤنڈیشن میں پیش کیا۔ دوسری جانب مزمل کا کہنا ہے کہ اس اسپیشل جوتے کی تیاری میں میں ایک سال لگا، جوتے کے سول میں چمڑے کا اضافی استعمال اس طرح سے کیا گیا ہے کہ جس سے ٹخنوں کے درد میں کمی واقع ہوتی ہے۔

چاند پاشا نے بتایا  کہ ان کے بیٹے مزمل نے ایک ایسی برقی مقناطیسی شیلڈ بھی بنائی تھی جسے اگر موبائل میں فکس کر دیاجائے تو انسان  اس سے نکلنے والی تابکار  شعاعوں  کے اثرات سے 80 فیصد محفوظ رہ سکتا ہے۔ مزمل کی ایجاد کو نیشنل چلدڑن سائنس کانگریس 2014 میں پیش کیا گیا جس پر  بھارت کے سابق صدر عبدالکلام نے انہیں ایوارڈ سے نوازا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…