جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مشکلات میں ڈوبی پی آئی اے کیلئے سب سے بڑی خوشخبری، مگر کیا؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 7  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پی آئی اے میں لیز پر پندرہ طیارے شامل کرنے کیلئے دسمبر کی قسط کیلئے 16.46 ملین ڈالر کی اصولی منظوری دے دی‘ کمیٹی نے دوسری قسط کے اجراء4 سے قبل مالی معاملات کا جائزہ لینے کیلئے سیکرٹری خزانہ‘ چیئرمین ایس ای سی پی اور سیکرٹری پی اینڈ این آر پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی، ای سی سی نے سیالکوٹ میں ان لینڈ کنٹینر ٹرمینل کے قیام اورگیس فیلڈز سے ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کو گیس کی فراہمی کی بھی منظوری دی ۔ ہفتہ کو وزیر خزانہ اسحق ڈار کی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایوی ایشن ڈویڑن کی جانب سے پیش کی گئی تجویز اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے )کی درخواست پر اپنے بیڑے میں 15 طیارے لیز پر لینے کے حوالے سے کل رقم 52 ملین ڈالر میں سے دسمبر کی قسط کیلئے 16.46 ملین ڈالر کی اصولی منظوری دی۔ یہ رقم جی او پی کی بنیاد پر دی جائے گی اور پی آئی اے اس سلسلے میں ضابطے کی تمام کارروائی پوری کرے گا اور خریداری کے حوالے سے تمام قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کی جائے گی۔ ای سی سی نے سیکرٹری خزانہ‘ چیئرمین ایس ای سی پی اور سیکرٹری پی اینڈ این آر پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی جوکہ دوسری قسط کے اجراء4 سے قبل مالی معاملات کا مکمل جائزہ لے گی۔ پی آئی اے 20 دسمبر کو ای سی سی کو رقم ملنے کے حوالے سے آگاہ کرے گا۔ ای سی سی کے چیئرمین نے پی آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ وہ کمپنی کو رقم کی ادائیگی کے حوالے سے دو ہفتے قبل بتائیں تاکہ بروقت رقم جاری کی جاسکے ۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کسٹمز ایکٹ 1969ء4 کے تحت سیالکوٹ میں ان لینڈ کنٹینر ٹرمینل کے قیام کی بھی منظوری دی۔ کنٹینر ٹرمینل کے قیام سے نہ صرف برآمدکنندگان کو فائدہ ہوگا بلکہ مقابلے کیلئے خدمات میں بھی بہتری لائی جاسکے گی۔ ای سی سی نے وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کی درخواست پر نئی اور پرانی گیس فیلڈز سے گیس کی فراہمی کی بھی منظوری دی۔ منظور شدہ منصوبے کے تحت ایس این جی پی ایل کو اس کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے سلسلے میں اضافی 30 ایم ایم سی ایف ڈی اڈھی گیس فراہم کی جائے گی جبکہ ایس ایس جی سی ایل کو گوپانگ گیس فیلڈ سے ایک ایم ایم سی ایف ڈی اور نم ون گیس سے 2 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جائے گی۔ متعلقہ فیلڈز سے گیس کی پیداوار میں کمی سے گیس کی تقسیم کے نظام میں طلب اور رسد کا بڑا خلاء پیدا ہوا تھا۔ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل ایل این جی کی درآمد اور انٹرنیشنل گیس پائپ لائن منصوبے کیلئے کوشاں ہے جس سے سسٹم میں گیس کی فراہمی کا تسلسل برقرار رہے گا۔ اس موقع پر وزیر خزانہ نے کہا کہ ای سی سی میں جمع کی گئی تمام تجاویز ہر حوالے سے درست اور مکمل ہونی چاہئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…