جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

جاپان میں کاریں بنانے والی مشہورکمپنی لیکس نے اڑن تختہ تیارکرلیا

datetime 5  اگست‬‮  2015 |

سان فرانسسکو(نیوز ڈیسک)جاپان میں کاریں بنانے والی مشہور کمپنی ’’لیکسس‘‘ نے اپنی ایک انقلابی ایجاد کا اعلان کیا ہے اوریہ کوئی عالیشان گاڑی نہیں بلکہ ایسا تختہ ہے جو زمین سے چند سینٹی میٹر بلند ہوکر آگے بڑھتا ہے اور اس ’’اڑن تختے‘‘ یا ہوور بورڈ کو ’’سلائیڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔کمپنی کے مطابق اس میں مائع نائٹروجن سے ٹھنڈے کیے گئے سپرکنڈکٹر اورمستقل مقناطیس لگائے گئے ہیں، اڑن تختے کے لیے جوخاص فرش بنایا گیا ہے اس میں مقناطیس چھپائے گئے ہیں اسی لیے اس کو ہر جگہ استعمال نہیں کیا جاسکتا تاہم کمپنی اس اڑن تختے کے لیے مخصوص مقناطیسی اسکیٹ پارک تعمیر کرے گی۔ کمپنی کا کہنا ہیکہ بہت جلد اس اڑن تختے کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا۔اس انقلابی اڑن تختے کی ایک جھلک یوٹیوب کی ایک ویڈیو میں پیش کی گئی ہے جوصرف چند سیکنڈوں کی ہے ویڈیو میں ہووربورڈ کو سیمنٹ کے فرش پر دکھایا گیا ہے، ویڈیو کو دیکھتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مقناطیسی معلق یا میگنیٹک لیوائٹیشن کے اصولوں پر کام کرتا ہے۔اڑن تختے میں شامل کیے گئے سپرکنڈکٹر ایسے مادوں کو کہا جاتا ہے جن سے بجلی کسی رکاوٹ کے اور ضائع ہوئے بغیر سفرکرتی ہے اس کے ذریعے جاپان اور چین میں مقناطیس پرمعلق ہونے والی انتہائی تیزرفتارٹرینیں تیارکی گئی ہیں جوبرقی مقناطیس لگی پٹریوں سے اوپر رہتے ہوئے تیرتی ہیں لیکن لیکسس کے سپرکنڈکٹر تختے کو اتنا ٹھنڈا کیا گیا ہے کہ سپرکنڈکٹر طاقتور برقی کرنٹ پیدا کرتا ہے جس سے مقناطیسی میدان بن جاتا ہے۔ اب اگر اسے ایک اور مقناطیس پر رکھا جائے تو دونوں ایک دوسرے کو رد کریں گے اور یوں تختہ ہوا پر معلق ہوجائے گا اس طرح نیچے بچھے ہوئے مقناطیس کو کم زیادہ کرکے تختے کو آگے دھکیلنا ممکن ہوتا ہے لیکن اس کمنپی کا تختہ حیرت انگیز طور پر عام سیمنٹ پر بھی آگے بڑھتا ہے۔
واضح رہے کہ ماضی کی مشہور فلم ’’بیک ٹو دی فیوچر‘‘ میں پہلی مرتبہ ہوا میں تیرنے والے تختے کا تصور پیش کیا گیا تھا جس میں لوگوں کو تختے پر کھڑے ہوکر ہوا میں تیرتے ہوئے دکھایا گیا تھا جس کے بعد اس انقلابی ایجاد پر کئی کمپنیوں نے کام کیا اور اس پر کئی ارب ڈالر خرچ کئے جاچکے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…