بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

ظالم حکومت سے نجات کیلئے پوری قوم کو گھروں سے باہر نکلنا ہوگا اور فیصلہ کن قدم اٹھانا ہوگا‘شہبازشریف

datetime 24  اکتوبر‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے حکومت کو معاشی تباہی اور مہنگائی کے ذریعے قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت، عوام اور موجودہ حکومت میں سے ایک کو چننا ہوگا، اس حکومت کا ایک ایک

منٹ پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان دے رہا ہے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کا اعلان کر کے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مزید بڑھا دی گئیں، یہ ہے اس حکومت کا احساس اور وعدہ؟ایک بار پھر میری بات سچ ثابت ہوئی کہ یہ حکومت عوام اور آئی ایم ایف دونوں کو دھوکہ دے رہی ہے، جھوٹ بول رہی ہے اگر آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط طے نہیں ہوئیں، مذاکرات آگے نہیں بڑھے تو پھر قیمتوں میں اضافہ کیوں کیاجارہا ہے؟۔ انہوںنے کہا کہ حکومت عوام اور پارلیمنٹ سے آئی ایم ایف کی شرائط کیوں چھپا رہی ہے ؟ شرائط نہیں مانیں تو پھر مہنگائی کیوں؟مہنگائی میں مسلسل اضافہ اور آئی ایم ایف کی سلامتی وقومی اداروں کے بینک اکائونٹس سے متعلق شرائط خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کون سے اچھے دن آئے ہیں کہ ہر روز چائے، چینی، آٹے، انڈے، دودھ، دہی، گھی، چاول، سبزیوں اور دوائی کی قیمت بڑھتی ہی جا رہی ہیں،معاشی تباہی کی جلتی آگ پر مہنگائی تیل کا کام کررہی ہے، حکمرانوں کا ہر دن قومی سلامتی کے لئے خطرات اور خدشات بڑھا رہا ہے ،موجودہ حکومت کی ناکامی پاکستان کے وجود اور مفادات کے لئے زہر قاتل بن چکی ہے، نجات حاصل نہ ہوئی تو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ آئی ایم ایف سے بات چیت سے پہلے ہی مشیر خزانہ کا چلے جانا، امن وامان سمیت دیگر سنگین مسائل میں وزرا ء کا چھٹیاں منانا اور سیرسپاٹے حکومت کی غیرسنجیدگی کے مظاہر ہیں ،موجودہ پوری حکومت کو مکمل چھٹی دینے کی ضرورت ہے، مسائل کی دلدل سے ملک کو نکالنے کے لئے سنجیدہ، قابل اور دیانت دار ٹیم کی ضرورت ہے ،ثابت ہوچکا ہے کہ ملک اور قوم کے مسائل کو یہ حکومت حل نہیں کرسکتی، مزید وقت ضائع کرنا ملک اور قوم کے ساتھ سنگین زیادتی ہے ،مہنگائی ، معاشی تباہی اور بیروزگاری کی سزا ملک اور قوم بھگت رہی ہے ، حکومت کو احساس نہیں کہ غریب ہی نہیں سفید پوش طبقہ پس چکا ہے ،اس ظالم حکومت سے نجات کے لئے پوری قوم کو گھروں سے باہر نکلنا ہوگا اور فیصلہ کن قدم اٹھانا ہوگا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…