جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

غداری کیس: خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل سے جواب طلب

datetime 4  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔ ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل سے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے 21 نومبر کے فیصلے کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے فاضل جج جسٹس اطہر من اللہ نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے 21 نومبر کے فیصلے کے خلاف درخواست اور اس پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات سے متعلق سماعت کی۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ خصوصی عدالت کا 21 نومبر کا فیصلہ قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں، اس سے ٹرائل میں تاخیر اور ملزم کو فائدہ ہوگا۔ اس لئے پرویز مشرف کے ساتھ شریک ملزمان کا الگ ٹرائل کرنے کا حکم دیا جائے۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ خصوصی عدالت کا اختیار بھی ہائی کورٹ کے برابر ہے، خصوصی عدالت کے عبوری حکم کو ہائیکورٹ میں چیلنج نہیں کیاجاسکتا تاہم خصوصی عدالت کے حتمی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ عدالت عالیہ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔واضح رہے کہ خصوصی عدالت نے 21 نومبر کو سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق وزیر قانون زاہد حامد اور سابق چیف جسٹس پاکستان عبدالحمید ڈوگر کو بھی مقدمے میں شامل کرنے کا حکم دیاتھا۔ جس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی تاہم عدالت عالیہ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراض لگایا تھا کہ خصوصی عدالت کے آرڈرکو چیلنج کرنے کے لئے ہائی کورٹ درست فورم نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…