جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ میں عدالت نے ایک اور ملزم پولیس اہلکار کو چھوڑدیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2014 |

نیو یارک۔۔۔۔امریکہ کے محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ نیویارک میں سیاہ فام شہری کی موت کے کیس کی تحقیقات کی جائیں گی۔یہ اعلان اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے اس وقت دیا جب گرینڈ جیوری نے نیویارک میں سیاہ فام شہری ایرک گارنر کی موت کے کیس میں نیویارک پولیس کے اہلکار پر مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ دیا۔17 جولائی کو پولیس افسر ڈینئل پینٹیلو کی سیاہ فام ایرک گارنر کو بغیر ٹیکس کے سگریٹ فروخت کرنے کے الزام میں حراست میں لینے جانے کی ویڈیوکے خلاف عوام سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔اس ویڈیو میں دمے کے مریض 43 سالہ گارنر کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ ’میں سانس نہیں لے پا رہا۔‘ایرک گارنر کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز کے مطابق گارنر کا گلا دبانے کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔گرینڈ جیوری کے فیصلے کے بعد صدر اوباما نے کہا ہے کہ’اس سے امریکی اقلیتوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں بڑے مسائل ظاہر ہوتے ہیں۔‘اس فیصلے کے خلاف نیویارک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جبکہ شہر کے گرینڈ سینٹرل ٹریمینل پر لوگ احتجاجا فرش پر لیٹ گئے۔امریکی صدر سمیت کئی شخصیات نے لوگوں کو پرسکون رہنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ ایک ہفتہ قبل ہی امریکی ریاست مزوری میں جیوری کی جانب سے ایک 18 سالہ سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کی ہلاکت پر پولیس اہلکار پر مقدمہ نہ چلانے کے فیصلے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ ملک بھر میں پھیل گیا تھا۔جیوری کے فیصلے کے بعد ایرک گارنر کی بیوہ صدمے سے خود کو سنبھال نہیں پائیں۔ان مظاہروں کے بعد صدر اوباما نے پولیس اہلکاروں کی تربیت اور پولیس کے محکمے میں اصلاحات کے لیے کانگریس سے 26 کروڑ ڈالر کے قریب رقم مانگی تھی۔نیویارک کے میئر بل ڈی بلسیو نے کہا ہے کہ جیوری کا فیصلہ ایسا ہے جو ہمارے شہر میں زیادہ تر لوگ نہیں چاہتے تھے اور اس کے ساتھ انھوں نے لوگوں کو پرامن اور اس فیصلے کو تعمیری انداز میں لینے کی درخواست کی ہے۔بدھ کی رات کو مظاہرین نیویارک کے مضافاتی علاقے سٹیٹن میں مقام پر جمع ہوئے جہاں پولیس نے ایرک گارنر کوگرفتار کیا تھا۔
گارنر کے اہلخانہ کے وکیل جوناتھن مور کے مطابق انھیں عدالت کے فیصلے پر حیرت ہوئی ہے۔گارنر کی بیٹی ایرکا سنائپر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گریڈ جیوری’ انسان بھی نہیں ہے اور اس میں انسانیت بھی نہیں ہے۔‘انھوں نے کہا کہ اس ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ظالمانہ حرکت کی گئی ہے جو کہ کوئی کسی کے خلاف کر سکتا ہے اور یہ ٹھیک نہیں ہوا ہے۔اس واقعے کی موبائل فون کے ذریعے بنائی جانے والی ویڈیو میں گارنر ہتھکڑی پہننے سے انکار کر رہے ہیں اور پولیس اہلکار پینٹیلو کے ردعمل میں ان کی گردن کے گرد بازو ڈالنے کی وجہ سے وہ دم رک جانے سے انتقال کر گئے۔ نیویارک پولیس کے ضابط اخلاق میں ایسے ردعمل کی ممانعت ہے۔اس واقعے کے تھوڑی دیر بعد کے ایک اور ویڈیو کلپ میں گارنر زمین پر پڑے نظر آتے ہیں جب کہ اسی دوران ایک ایمبولینس میں طبی عملہ آتا ہے اور گارنر کو وہاں سے اٹھا کر لے جاتا ہے۔پولیس اہلکار پینٹیلو نے ایک بیان میں گارنر اور ان کے اہلخانے کے لیے دعا کی ہے۔’میرا ارادہ کسی کو نقصان پہنچانا نہیں تھا اور مجھے گارنر کی موت کا بہت افسوس ہوا۔ میں لوگوں کی مدد کے لیے پولیس افسر بنا تھا اور میرا فرض ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا جو خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…