جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جنید جمشید کیخلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج، گرفتاری کا امکان مگر ایسا کیوں ہوا؟ جاننے کیلئے کلک کریں

datetime 4  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی: مشہور نعت خواں، مبلغ اور سابق گلوکار جنید جمشید کے خلاف ڈسٹرکٹ اور سیشن کورٹ کی ہدایت پر منگل کو توہین رسالت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق ایک حالیہ ویڈیو میں جنید جمشید نے اپنے بیان کے دوران حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔

ایس ایس پی سٹی شیراز نذیر نے کہا کہ سنی تحریک کے ایک رہنما کی درخواست پر رسالہ پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-سی اور 298-اے کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ایس ایس پی نے کہا کہ جنید جمشید کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیا اور کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل سینئر افسر معاملے کی تفتیش کریں گے۔

سنی تحریک کے رہنما مبین قادری نے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 22-اے کے تحت عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جنید جمشید نے حضرت محمد مصطفیٰﷺ اور ان کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایک نجی ٹی وی پر نشر کیا گیا اور اسے متعدد سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیا گیا۔

قادری نے کہا کہ میں نے متعلقہ پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی احمد صبا نے درکواست نمٹاتے ہوئے ایس ایچ او رسالہ کو ہدایت کی کہ وہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 154 کے تحت درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرتے ہوئے فیصلہ کریں کہ آیا ملزم سے خطا سرزد ہوئی یا نہیں اور اسی حساب سے مقدمہ درج کریں۔

ادھر جنید جمشید کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی ایک ویڈیو میں انہوں نے اپنے ان الفاظ پر معافی مانگتے ہوئے عوام سے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…