جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مصر میں اخوان المسلمین کے 188 حامیوں کو سزائے موت

datetime 3  دسمبر‬‮  2014 |

قاہرہ۔۔۔۔مصر میں ایک عدالت نے گذشتہ سال پولیس تھانے پر حملے میں 12 اہلکاروں کی ہلاکت کے مقدمے میں اخوان المسلمین کے 188 حامیوں کو سزائے موت سنائی ہے۔عدالت اپنا حتمی فیصلہ آئندہ سال 24 جنوری کو سنائے گی اور اس کے بعد ملزمان عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں تاہم یہ طریق کا کافی پیچیدہ ہے۔اس کے علاوہ سزا پر عمل درآمد کے لیے ملک کے مفتی اعظم کی اجازت بھی درکار ہو گی۔اگست 2013 میں دارالحکومت قاہرہ کے قریب ایک پولیس سٹیشن پر مظاہرین کے حملے میں 12 اہلکار مارے گئے تھے۔اسی روز سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے دو کیمپوں پر پر دھاوا بول دیا تھا اور اس واقعے میں معزول صدر مرسی کے سینکڑوں حامی مارے گئے تھے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان افراد کو سزا سنائی گئی ہے ان میں سے 151 پولیس کی تحویل میں ہیں جبکہ دیگر مفرور ہیں۔سابق صدر حسنی مبارک کی سزا ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ملزمان پر 12 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے علاوہ ان پر دیگر 10 پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش، پولیس سٹیشن کو نقصان پہنچانے، پولیس کی گاڑیوں کو نظرآتش کرنے، بھاری اسلحہ رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔مصر میں حسنی مبارک کی معزولی کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں اسلام پسند رہنما محمد مرسی ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے تاہم فوج نے انھیں ایک سال بعد جولائی سنہ 2013 میں برطرف کر دیا تھا اور اس کے بعد صدر مرسی کو معزول کرنے والے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی اپنے عہدے سے استعفی دے کر صدارتی انتخابات کے ذریعے ملک کے نئے صدر منتخب ہو گئے تھے۔
عدالت کی جانب یہ فیصلہ ایک ایسے وقت آیا ہے جب گذشتہ سنیچر کو ایک عدالت نے معزول مصری صدر حسنی مبارک کے خلاف سنہ 2011 میں بغاوت کے دوران لوگوں کو قتل کرنے کی سازش کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کرتے ہوئے مقدمہ واپس لے لیا تھا۔
سابق صدر حسنی مبارک پر الزام تھا کہ انھوں نے سنہ 2011 میں شروع ہونے والی بغاوت کے دوران لوگوں کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔
جولائی 2013 میں سابق صدر مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد حکام نے اسلامی اور سکیولر کارکنوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا تھ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…