بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کا 31سال سے عارضی کلرک کو فوری مستقل کرنے کا حکم

datetime 9  جولائی  2021 |

سلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب میں 31 سال سے عارضی بنیادوں پر ملازمت کرنے والے سید بخت بیدار شاہ کو کلرک کی پوسٹ پر فوری مستقل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ ملازمت کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ اے جی صاحب 31 سال تک درخواست گزار کومستقل کئے بغیر کیسے رکھا گیا؟چیف منسٹرز کہتے رہے اور آپ انہیں ایکسٹینشن دیتے رہے؟جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا 31 سال سے ملازمت میں کبھی 6 ماہ تو کھبی سال کی ایکسٹینشن دی جاتی رہی۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ پوسٹ ایڈورٹائزمنٹ ہوئی تو ٹائپنگ ٹیسٹ میں شامل ہونے کا کہا لیکن نہیں ہوئے، جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ ٹائپنگ اسپیڈ 25 درکار تھی اور تشکیل کردہ کمیٹی نے ٹیسٹ لیا تو 29 تھی۔وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ متعلقہ پوسٹ کیلئے تعلیم میٹرک درکار تھی جبکہ میں بی اے پاس ہوں۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب میں 31 سال سے عارضی بنیادوں پر ملازمت کرنے والے سید بخت بیدار شاہ کو کلرک کی پوسٹ پر فوری مستقل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئیمعاملہ نمٹا دیا ہے۔ قبل ازیں ہائیکورٹ نے درخواست گزار کی ملازمت مستقلی مسترد کی تھی۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے نیڈھڈوچہ ڈیم کی زمین پر پلاٹ بنا کر خریدو فروخت کرنے کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے موقع پرایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر اور زمین کی مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئیپنجاب حکومت،  بحریہ ٹاون اور ڈی ایچ اے کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…