ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

محکمہ خزانہ سندھ میں 336 ملازمین کی غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف اپیل ، سپریم کورٹ نے معاملہ دوبارہ سندھ ہائی کورٹ کو بھجوا دیا

datetime 7  جولائی  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)محکمہ خزانہ سندھ میں 336 ملازمین کی غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے معاملہ دوبارہ سندھ ہائی کورٹ کو بھجوا دیا۔ بدھ کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔سپریم کورٹ نے معاملہ دوبارہ سندھ ہائی کورٹ کو بھجوا دیا۔ عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کو سکیل 1سے 14 تک کے معاملے پر چھے

ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی ۔ عدالت نے کہاکہ16 سکیل سے اوپر کی پوسٹوں پر بھرتیاں سندھ پبلک سروس کمیشن کے زریعے کی جائیں گی، ہائیکورٹ تمام 336 ملازمین کا ریکارڈ چیک کروائے۔سپریم کورٹ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ سبطین محمود پر برہم ہوگئی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جن 10 ہزار لوگوں کے ٹیسٹ انٹرویو ہوئے ان کا ریکارڈ کہاں ہے؟ ۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ سبطین محمود نے کہاکہ محکمے سے کنفرم کر کے ہی بتا سکتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دس ہزار لوگوں کا سوال پیپر تو آپ بنا لیں گے جواب پیپر کا ریکارڈ عدالت کو دکھائیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایک ہی دن میں ٹیسٹ انٹرویوز مکمل کر کے فائنل بھرتیوں کی لسٹ بھی آویزاں کر دیا خدا کا خوف کریں۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہاکہ سندھ کے پانچ ڈویژن کراچی، سکھر، حیدر آباد، میر پور خاص اور لاڑکانہ میں ایک ساتھ ٹیسٹ انٹرویوز ہوئے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ کوئی طریقہ نہیں قانون کو فالو کئے بغیر بھرتیاں ہوں گی، غیر قانونی بھرتیوں کے پیچھے کیا کچھ ہوتا ہے سب کو پتہ ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ 16، 17،18 گریڈ کے ملازمین کی انڈیکشن ہو ہی نہیں سکتی، بیک ڈور بھرتیاں کر کے سیول سرونٹ بنا دیا گیا انہیں مستقل نہیں کیا جاسکتا۔ وکیل ملازمین نے کہاکہ 2011 میں بھرتی ہوئے نوکری کرتے ہوئے 10 سال کا عرصہ گزر گیا۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہاکہ 336 میں سے 10 کی ڈگریاں ویرفیکشن نہیں ہوئیں تو انہیں نوکری سے فارغ کیا گیا،غیر قانونی طریقے سے بھرتیاں کی گئیں میڈیا کوریج موجود ہے عدالت پیمرا سے ریکارڈ منگوائے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ہم ہائیکورٹ بجھوا رہے ہیں وہاں سب کا کیس سنا جائے گا اور تحقیقات بھی ہونگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…