ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے بعد آئی ایم ایف نے بھی قرضے کی قسط روک لی

datetime 17  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان اور آئی ایم کے درمیان چھٹے اقتصادی جائزہ مذاکرات بغیر نتیجہ ملتوی ہوگئے۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ غریبوں پر بوجھ نہیں ڈال سکتے، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف پاکستانی معیشت کا

ستمبر میں پھر جائز لے گاآئی ایم ایف اگلے دو سے تین ماہ کی کارکردگی مانیٹر کرے گا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے اگلی قسط کا حصول بھی تاخیر کا شکار ہوگیا۔ اس طرح ورلڈ بینک، ایشین بینک کے بعد آئی ایم ایف نے بھی قرضے کی قسط روک لی ہے، دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ کہ ڈالرختم ہونے کے باعث ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، آئی ایم ایف اس بار پاکستان کے ساتھ فرینڈلی نہیں تھا، اس بار ہمیں آئی ایم ایف کی کڑوی گولی کھانا پڑی، آئی ایم ایف نے شرح سود 13.25 فیصد تک لے جانے کا مطالبہ کیا، اس سے ایک سال میں قرضوں کی لاگت 1400 ارب روپے بڑھ گئی، شرح تبادلہ بھی 168 تک چلاگیا، ٹیکس نادہندگان کی گرفتاری کا فیصلہ وزیر خزانہ کی سطح پر ہوگا، پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے لوگوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا جو ٹیکس نہیں دیں گے تو ان کے خلاف ایکشن لیں گے، ایف بی آر کی طرف سے دھمکائے جانے کے اختیارات کی شق ختم کردیں گے،وزیر قانون سے کہا ہے کہ گرفتاری کی شق کو تبدیل کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…