بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

صنعتکاروں نے بجٹ2021-22کو درست سمت میں پہلا قدم قرار دے دیا

datetime 13  جون‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالہادی نے وفاقی بجٹ 2021-22 کو درست سمت میں پہلا قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے صنعتکار برادری کے ایف بی آر حکام کے بے جا اختیارات کو کم کرنے کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے تاجر برادری کو ہراساں کرنے کا راستہ تقریباً بند

کردیا ہے جسے ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تاہم بجٹ میں اب بھی بہت سے امور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ایک بیان میں عبدالہادی نے کہاکہ حکومت کے اعلان کردہ وفاقی بجٹ 2021-22 کے مطابق ٹیکس دہندگان اب سیلف اسسمنٹ اسکیم کے تحت از خود اسسمنٹ کرسکیں گے اور ایف بی آر کی مداخلت نہیں ہوگی جبکہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے آڈٹ کیا جائے گا جو کہ خوش آئند ہے کیونکہ اس اقدام سے یقینی طور پر ایف بی آر میں رشوت کا دروازہ بند ہوجائے گا اور جو لوگ ٹیکس نیٹ میں آنے سے کتراتے ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی جس سے ملک کو خطیر ریونیو حاصل ہوگا۔ انہوں نے ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے اور خام مال پر ڈیوٹیز میںکمی کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس اقدام سے نہ صرف برآمدی صنعتوں کو فائدہ ہوگا بلکہ مقامی صنعتیں بھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکیں گی اور ملکی برآمدات کو بھی زبردست فروغ حاصل ہوگا تاہم عبدالہادی نے تمام تر یقین دہانیوں کے باجود زیرو ریٹیڈ ریجم بحال نہ کرنے اور 17فیصد سیلز ٹیکس واپس نہ لینے یا 5 فیصد نہ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بجٹ سے قبل یہ وعدہ کیا تھا کہ زیروریٹیڈ ریجم کی بحالی پر غور کیا جائے گا یا پھر 17فیصدسیلز ٹیکس کی شرح کو 5 فیصد کی سطح پر لایا جائے گا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں کیا

گیا جس سے برآمدکنندگان کو سرمائے کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔عبدالہادی نے مطالبہ کیا کہ حکومت نظرثانی کرتے ہوئے زیروریٹیڈ ریجم بحال کرے اور اگر ایسا کرنے میں کوئی مشکل حائل ہے تو کم ازکم 17فیصد سیلز ٹیکس کو 5فیصد کیا جائے تاکہ تجارت وصنعت کا پہیہ بلارکاوٹ گھوم سکے اور برآمدکنندگان بین الاقوامی مارکیٹوں میں مسابقت کے قابل ہوسکیں نیز ان اقدامات کے نتیجے میں برآمدات میں بھی اگلے سال تک4سے5ارب ڈالر کا اضافہ ممکن بنایا جاسکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…