جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سور ج کی تپش سے پلو ٹو سکڑنے لگا

datetime 21  جولائی  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )خلائی تحقیق سے متعلق امریکی ادارے ناسا کے خلائی جہاز کی جانب سے پلوٹو کی بھیجی گئی تصاویر میں موجود کثیرالزاویہ اشکال نے سائنسدانوں کو حیران کرکے رکھ دیا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلائی جہاز نیو ہورائزنز کی جانب سے پلوٹو کے میدانوں کی مزید تصاویر جاری کی ہیں۔ پہاڑی ٹیلوں پر مشتمل ان شکلوں کی چوڑائی 3 سے 20 کلو میٹر تک ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ اشکال پلوٹو کی سطح کے اندر موجود تپش کی وجہ سے مادے کے سکڑنے کا نتیجہ ہوسکتی ہیںتاہم اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پلوٹو بہت پیچیدہ ہے، اس کی سطح پر بڑے بڑے برفیلے میدان اور ہموار سطح پر نئے پہاڑ موجود ہیں جب کہ دوسری جانب اس کی سطح سے بلبلے بھی پھوٹ رہے ہیںاور حجم چھوٹا ہونے کے باعث اس کی کشش ثقل زمین یا مریخ کی نسبت انتہائی کم ہے اور سورج کی جانب سے آنے والے ذرات کی وجہ سے یہ سیارہ اپنا کرہ ارض 500 ٹن فی گھنٹہ کے حساب سے کھو رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق اب تک نیو ہورائزن نے صرف ایک یا 2 فیصد ڈیٹا ہی زمین تک بھیجا ہے اور مزید ڈیٹا ابھی موصول ہورہا ہے جن سے مزید انکشافات ہونے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ نیو ہورائزنز نے پلوٹو سے 12 ہزار 500 کلو میٹر کے فاصلے پرسے تصاویر لیتے ہوئے مختلف سائنسی معلومات اکٹھی کی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…