پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

تاجروں کا ملک گیر احتجاج کا عندیہ

datetime 29  مئی‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)ایل پی جی کا کاروبار کرنے والے تاجروں نے زمینی راستے سے ایل پی جی کی درآمد بند کرنے کے مجوزہ فیصلے کے خلاف ملک گیر احتجاج کا عندیہ دیدی اجبکہ چیئرمین ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر نے کل پیر کے روزلاہورمیں اجلاس طلب کر لیا ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ پاک ایران سرحد پر زمینی راستے ایل پی جی گیس کی

درآمد پر نئے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ واپس لے کر سمندر کے راستے گیس درآمد کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ایل پی جی پالیسی 2021 کے تحت ایک منظم منصوبے کے تحت ایران سے زمینی راستے کے ذریعے ایل پی جی گیس کی درآمدات روکنے کی کوشش کی جارہی ہے اور سمندر سے چند ٹیکسز کی چھوٹ پر ایل پی جی گیس درامد کرنا ہے جس کا مقصد ایک بااثر مافیا کو فائدہ پہنچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ زمینی راستے سے ایل پی جی کی درآمدات سے نہ صرف لاکھوں خاندانوں بلکہ حکومت بلوچستان کو بھی اربوں روپے کا فائدہ مل رہا ہے جسے بند کرکے لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنانے اور عوام کو سستی ایل پی جی کی فراہمی بند کرنے کی سازش کی جارہی ہے جو قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے. انہوں نے کہا کہ تفتان سرحد پر 75 فیصد کاروبار ایل پی جی کی درآمد سے وابستہ ہے جسے بند کرنا بلوچستان کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم پر ملک گیر ہڑتال کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…