جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں کورونا مریضوں کی لاشیں دریا سے برآمد علاقے میں خوف و ہراس

datetime 11  مئی‬‮  2021 |

بہار(این این آئی)بھارت میں کورونا مریضوں کی لاشیں دریا سے برآمد ہوئیں، علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ریاست بہار میں 40 سے زائد لاشیں تیرتی ہوئی دریائے گنگا کے کنارے پر پہنچ گئیں، جنہیں اتر پردیش سے دریا میں ڈالا گیا تھا۔ حکام کا کہنا تھاکہ یہ ان کورونا مریضوں کی لاشیں ہیں جنہیں شمشان گھاٹ میں جگہ نہ ملنے پر لواحقین نے دریا میں ڈال دیا تھا۔

سات سے دس دن تک سمندر میں رہنے سے لاشیں پھول چکی ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ لاشوں کی تعداد سو سے زیادہ ہوسکتی ہے۔دوسری جانب بھارت میں تیزی سے پھیلتی ہوئی مہلک کورونا وباکے باعث بھارتی سینٹرل ریزروپولیس فورس کے 108اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ بھارتی وزارت داخلہ کی زیرکمان پیرا ملٹری فورسز میں ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ کے تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ سی آر پی ایف ، بارڈر سیکورٹی فورس ، سینٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس ، انڈو تبتین بارڈر پولیس ، ساشترا سیما بل، نیشنل سیکیورٹی گارڈ اور نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس سمیت تمام سات فورسز کے مجموعی طورپر 271اہلکار مہلک وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ فورسز نے ایک دن میں 763 افراد کے مہلک وائرس میں مبتلا ہونے کی بھی اطلاع دی ہے جس سے وائرس سے متاثرہ اہلکاروں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 71ہزار 295ہوگئی ہے۔ ان ساتوںمیں فورسزمیں وائرس سے متاثرہ اہلکاروںکی تعداد 9ہزار464 ہے جبکہ اب تک 61ہزار560 اہلکار صحت یاب ہو چکے ہیں۔سی آر پی ایف کے قریبا تین لاکھ 25ہزار اہلکاروں میں سے 20ہزار700سے زائد اہلکار کورونا میں مبتلا ہو چکے ہیں جن میں سے 108اہلکاروں کی مہلک وائر س کے باعث موت واقع ہو چکی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…