ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

بدنامِ زمانہ ہیکنگ فورم ’ڈارکوڈ‘ بند کرنے میں کامیابی

datetime 16  جولائی  2015 |

لندن (نیوزڈیسک)دنیا کے 20 ممالک میں ہونے والی تحقیقات کے بعد امریکی حکام سائبر مجرموں کے زیرِ استعمال بدنامِ زمانہ ہیکنگ فورم ڈارکوڈ کو بند کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔اس معاملے سے منسلک ایک امریکی سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ ہم نے سائبر مجرموں کا وہ گھر تباہ کر دیا ہے جس کے بارے میں ہیکرز سمیت بہت سے افراد کا خیال تھا کہ اس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔اس سلسلے میں امریکہ اور کئی دیگر ممالک سے 28 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جن میں انگلینڈ کے علاقے کوونٹری کا ایک 26 سالہ شخص بھی شامل ہے۔ڈارکوڈ کے ارکان پر الزام ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کو زیرو ڈے حملوں کے علاوہ ہیکنگ کے کوڈز اور معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کرتے تھے۔یہ معلومات پاس ورڈ سے محفوظ بنائی جاتی تھیں اور صرف پہلے سے موجود ارکان کی سفارش پر ہی کوئی نیا رکن اس فورم کا حصہ بن سکتا تھا۔اس ویب سائٹ پر نظر رکھنے والے سائبر سکیورٹی بلاگر برائن کریبز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس فورم پر سلسلہ وار سائبر حملوں میں استعمال ہونے والے ہائی جیک کیے گئے کمپیوٹرز یعنی بوٹ نیٹس کی تشہیر کی جاتی تھی۔سونی، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں پر سائبر حملے کرنے والے بدنام ہیکر گروپ لزرڈ سکواڈ کے ارکان بھی اس فورم سے استفادہ کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں سائبر کرائم کے زیادہ تر فورم روسی یا دیگر زبانوں میں ہیں، یہ ایک انگریزی زبان کا فورم تھا۔ جہاں مختلف قومیتوں کے مختلف زبانیں بولنے والے سائبر مجرم ملتے تھے۔برائن نے کہا کہ سونی، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں پر سائبر حملے کرنے والے بدنام ہیکر گروپ لزرڈ سکواڈ کے ارکان بھی اس فورم سے استفادہ کرتے تھے۔انھوں نے دعوی ٰکیا کہ اس فورم کا ایڈمنسٹریٹر بھی لزرڈ سکواڈ کا ہی ایک رکن تھا تاہم برائن کے مطابق دلچسپ امر یہ ہے کہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے یا جن پر یہ فورم چلانے کا الزام ہے ان میں اس شخص کا نام شامل نہیں۔برائن کے مطابق میں نہیں جانتا کہ اس کا مطلب کیا ہے لیکن لزرڈ سکواڈ اور اس فورم کا کم از کم گذشتہ ایک سال کے دوران تعلق رہا ہے۔امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ تقریبا 300 افراد یہ فورم استعمال کرتے تھے۔ایف بی آئی کے مطابق ان تحقیقات میں آسٹریلیا، بوسنیا، برازیل، اسرائیل، کولمبیا اور نائیجریا کے حکام نے بھی مدد دی تاہم اس سلسلے میں مشتبہ افراد کا کھوج لگانے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…