لندن (نیوزڈیسک)دنیا کے 20 ممالک میں ہونے والی تحقیقات کے بعد امریکی حکام سائبر مجرموں کے زیرِ استعمال بدنامِ زمانہ ہیکنگ فورم ڈارکوڈ کو بند کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔اس معاملے سے منسلک ایک امریکی سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ ہم نے سائبر مجرموں کا وہ گھر تباہ کر دیا ہے جس کے بارے میں ہیکرز سمیت بہت سے افراد کا خیال تھا کہ اس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔اس سلسلے میں امریکہ اور کئی دیگر ممالک سے 28 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جن میں انگلینڈ کے علاقے کوونٹری کا ایک 26 سالہ شخص بھی شامل ہے۔ڈارکوڈ کے ارکان پر الزام ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کو زیرو ڈے حملوں کے علاوہ ہیکنگ کے کوڈز اور معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کرتے تھے۔یہ معلومات پاس ورڈ سے محفوظ بنائی جاتی تھیں اور صرف پہلے سے موجود ارکان کی سفارش پر ہی کوئی نیا رکن اس فورم کا حصہ بن سکتا تھا۔اس ویب سائٹ پر نظر رکھنے والے سائبر سکیورٹی بلاگر برائن کریبز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس فورم پر سلسلہ وار سائبر حملوں میں استعمال ہونے والے ہائی جیک کیے گئے کمپیوٹرز یعنی بوٹ نیٹس کی تشہیر کی جاتی تھی۔سونی، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں پر سائبر حملے کرنے والے بدنام ہیکر گروپ لزرڈ سکواڈ کے ارکان بھی اس فورم سے استفادہ کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں سائبر کرائم کے زیادہ تر فورم روسی یا دیگر زبانوں میں ہیں، یہ ایک انگریزی زبان کا فورم تھا۔ جہاں مختلف قومیتوں کے مختلف زبانیں بولنے والے سائبر مجرم ملتے تھے۔برائن نے کہا کہ سونی، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیوں پر سائبر حملے کرنے والے بدنام ہیکر گروپ لزرڈ سکواڈ کے ارکان بھی اس فورم سے استفادہ کرتے تھے۔انھوں نے دعوی ٰکیا کہ اس فورم کا ایڈمنسٹریٹر بھی لزرڈ سکواڈ کا ہی ایک رکن تھا تاہم برائن کے مطابق دلچسپ امر یہ ہے کہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے یا جن پر یہ فورم چلانے کا الزام ہے ان میں اس شخص کا نام شامل نہیں۔برائن کے مطابق میں نہیں جانتا کہ اس کا مطلب کیا ہے لیکن لزرڈ سکواڈ اور اس فورم کا کم از کم گذشتہ ایک سال کے دوران تعلق رہا ہے۔امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ تقریبا 300 افراد یہ فورم استعمال کرتے تھے۔ایف بی آئی کے مطابق ان تحقیقات میں آسٹریلیا، بوسنیا، برازیل، اسرائیل، کولمبیا اور نائیجریا کے حکام نے بھی مدد دی تاہم اس سلسلے میں مشتبہ افراد کا کھوج لگانے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
بدنامِ زمانہ ہیکنگ فورم ’ڈارکوڈ‘ بند کرنے میں کامیابی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر
-
عید الفطر کیلیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
خلیجی ممالک پر حملے، شہزادہ فیصل نے بڑا اعلان کر دیا
-
امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلی جنس کا پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق بیان مسترد
-
حکومت نے بجلی کے بلوں میں اضافی فکسڈ چارجز شامل کر دیئے
-
گیس تنصیبات پر حملہ، قطر کا بڑا سفارتی فیصلہ
-
راولپنڈی،شادی شدہ خاتون سے زیادتی کرنے والے 4 افراد گرفتار
-
لاہور، شہری نے فائرنگ کرکے بیوی، بیٹی اور بیٹے کو ہلاک کرکے خودکشی کرلی
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھیں گے تو لوگ اپنا لائف اسٹائل تبدیل نہیں کریں گے، وزیر پیٹرولیم
-
تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت
-
پاکستان ایئرٹریفک کنٹرول نے 30مسافر طیاروں کو وار زون میں داخل ہونے سے بچا لیا
-
300 میٹر طویل سرنگ کھود کر انوکھی چوری، پولیس بھی حیران
-
ملک کے مختلف شہروں میں بارش، پہاڑوں پر برفباری، لاہور میں بھی بادل برستے رہے، مزید بارش کی پیشگوئی



















































