بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان ہائی کورٹ نے تلور کے شکار پر پابندی عائد کردی

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کوئٹہ۔۔۔بلوچستان ہائی کورٹ (بی ایچ سی) نے عرب شیوخ کو تلور کے شکار کیلئے علاقوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے تلور کے شکار پر پابندی عائد کردی ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اعجاز سواتی پر مشتمل بنچ نیحکم دیا ہے کہ عرب شیوخ اور دیگر غیر ملکیوں کو تلور اور دیگر نایاب پرندوں کے شکار کے لیے علاقوں کی الاٹمنٹ غیر قانونی ہے۔عدالت نے یہ حکم سابق اسپیکر محمد اسلم بھوتانی اور محد سلیم کی متفرق درخواستوں پر دیا۔عدالت کے حکم کے مطابق عرب شیوخ اور دیگر غیر ملکیوں کو صوبے کے مختلف علاقوں میں تلور اور دیگر پرندوں کا شکار سراسر غیر قانونی اور عالمی وائلڈ لائف تحفظ کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔یاد رہے کہ 2012 میں وفاقی حکومت نے عالمی سطح پر تحفظ فراہم کیے گئے نایاب پرندے تلور کے شکار کے لیے عرب شیوخ اور اعلیٰ حکام اجازت نامے جاری کیے تھے۔عدالت نے اس سلسلے میں وفاقی وزارت داخلہ، چیف سیکریٹری بلوچستان اور وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کو نوٹسز جاری کردیئے اور متعلقہ محکموں کو حکم دیا کہ وہ دس دن کے اندر عدالت کو تلور اور دیگر نایاب پرندوں کی حفاظت سے متعلق عدالت کو آگاہ کرے۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے اعلیٰ سرکاری افسران اور عرب شاہی خاندانوں کے افراد ہرسال بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تلور کے شکار کے لیے آتے ہیں۔ان عرب شاہی خاندانوں کے افراد کو بلوچستان میں وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے اور سخت سیکیورٹی میں دالبندین ڈیرہ بگٹی اور دیگر علاقوں میں لایا جاتا ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ تلور کے شکار کے لیے علاقوں کی الاٹمنٹ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…