بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

فیس بک پر تصاویر پر ’دوسرے درجے کے شہری‘ کی مہر کس نے لگائی پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

یروشلم۔۔۔۔اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت کے ایک نئے مجوزہ قانون کے خلاف احتجاجاً سینکڑوں اسرائیلی عربوں نے فیس بک پر اپنی پروفائل تصاویر پر ’دوسرے درجے کا شہری‘ کی مہر لگا لی ہے۔اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق یہ احتجاج حیفہ سے تعلق رکھنے والی گرافک ڈیزائنر ثنا جمالیہ نے شروع کیا۔یہ احتجاج اس مجوزہ قانون کے خلاف ہو رہا ہے جس کے تحت اسرائیل میں شہری حقوق کے حصول کے لیے یہودی ہونا لازم ہوگا۔وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو اس قانون کے حامی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے تحت غیر یہودی آبادی کو بھی انفرادی سطح پر حقوق ملیں گے۔اسرائیل کی آبادی کا 20 فیصد عربوں پر مشتمل ہے جو ایک عرصے سے سماجی، قانونی اور انتظامی سطح پر امتیازی سلوک کی شکایت کرتے رہے ہیں۔خود کو اسرائیل کا فلسطینی شہری کہنے والی ثنا جمالیہ سے فیس بک پر دیگر سینکڑوں افراد نے بھی ان کے احتجاج میں شامل ہونے کی درخواست کی لیکن ان کا کہنا ہے کہ بظاہر ان کا یہ احتجاج رنگ لاتا دکھائی نہیں دے رہا۔ان کا کہنا ہے کہ ’ویسے اس میں نیا کیا ہے؟ ہم کبھی بھی پہلے درجے کے شہری نہیں تھے۔ اب کم از کم انھوں نے یہ بات کھل کر کی تو ہے۔‘ہارٹز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں تو اس بات کو ترجیح دوں گی کہ وہ ہمیں براہِ راست بتا دیں اور یہ دکھاوا نہ کریں کہ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں۔‘احتجاج کے لیے اپنی پروفائل تصویر تبدیل کرنے والے ایک طالبعلم حنین مجادلی نے اس مجوزہ قانون کو ’توہین آمیز‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ مہم ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے جس کا اثر سیاستدانوں پر پڑ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…