پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ڈائیلاگ کے حامی 2 ن لیگی رہنمائوں کے سوا سب جیل جاچکے ایاز صاد ق ابھی تک کیوں بچے رہے؟سابق سپیکر قسمت کے دھنی نکلے

datetime 7  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے قومی ڈائیلاگ کے تقریبا ًدس میں سے صرف دو وکلا یا حمایتی ابھی تک خوش قسمتی سے قومی احتساب بیورویا کسی بھی دوسری سرکاری ایجنسی کے ذریعہ کسی بھی چارج پر نافذ کی گئی گرفتاری اور

قید سے محفوظ رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مسلم لیگ ن کے پارلیمانی ایڈوائزری گروپ کے ارکان ہیں جس کی تشکیل نواز شریف اور شہباز شریف نے کی تھی جب وہ سلاخوں کے پیچھے تھے۔ اس گروپ کو حراست میں لیے گئے رہنماوں کے ساتھ ، اگر ممکن ہو تو ، مشاورت کے بعد پارٹی کے اہم فیصلے لینے کے لئے اکٹھا کیا گیا تھا۔ اگر زیر حراست افراد کے ساتھ اس طرح کی بات چیت نہیں کی جاسکتی ہوتی تو جب صورتحال مطالبہ کرتی تو گروپ کو خود ہی آگے بڑھنے کو کہا جاتا۔ بات چیت کے حق میں ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن کے ایک رہنما نے بتایا کہ یہ وفادار افراد اپنی پارٹی کے اندر بحث کرتے رہے ہیں کہ کسی بھی مذاکرات میں اس پر زور دینا ہوگا کہ تمام ریاستی اداروں کو اپنے طے شدہ آئینی عملداری کے اندر رہ کر کام کرناچاہئے اور دوسروں کے حلقوں پر قبضہ نہیں جمانا چاہئے۔ مسلم لیگ (ن) کے تند خو افراد نے ہمیشہ اس طبقے کو شک کی نگاہ سے دیکھا اور نجی اور عوامی سطح پر اس پر طنز کے تیر

برسائے۔ مسلم لیگ (ن) کے ان خوش قسمت رہنمائوں میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور رانا تنویر حسین، جو پبلک اکاونٹس کمیٹی (پی اے سی) کے موجودہ چیئرمین ہیں، شامل ہیں جنہوں نے جولائی 2018 کے عام انتخابات کے بعد ابھی تک جیل کا مزہ نہیں چکھا۔

باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ ایاز صادق کو ہر قیمت پر گرفتار کرنے کے لئے مختلف ایجنسیوں کے ذریعہ تفصیلی اور طویل تحقیقات کی گئیں لیکن ان کے خلاف کسی بھی الزام کا جواز پیش کرنے اور اس کی پشت پناہی کرنے میں کوئی بھی چیز برآمد نہیں ہوئی۔ ان کے اجداد کی جانب اس خاندان کیلئے وصیت میں چھوڑی گئی املاک ، جس میں سے کچھ خیرات کیلئے تھی، کی بھی گہرائی میں جانچ کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…