پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ٹریک ٹو ڈائیلاگ شروع ہوگیا، شہباز شریف سے جیل میں ملاقات کرنے والے محمد علی درانی کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 27  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی رہنما محمد علی درانی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی کشمکش کم کرنے کیلئے غیرمحسوس کردار متحرک ہیں، یہ کردار اداروں سے ہوسکتے ہیں جبکہ لندن میں بھی ٹریک ٹو مذاکرات جاری ہیں،ٹریک ٹو ڈائیلاگ کا مقصد یہ ہے کہ نمود و نمائش کے بغیر غیر محسوس طریقے سے ایک ایسی سرگرمی شروع کی جائے جو کسی نتیجے

پر پہنچ سکے اور اس سرگرمی کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں وہ ادارے، وہ افراد، وہ شخصیات اور وہ سارے عناصر بھی شامل ہوں گے جو میڈیا کے سامنے نہیں آتے۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے پوری توقع ہے کہ جب ایسے ڈائیلاگ ہوں گے جو نظر نہیں آرہے ہوں مگر ہورہے ہوں گے تو اس میں وہی لوگ شامل ہوں گے جو پرخلوص ہوں گے اور اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہوں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جو غیرمحسوس کردار ہیں، کیا وہ سیاست میں ہے یا اداروں میں ہیں۔ محمد علی درانی نے جواب دیا کہ نہیں، میں نے تو کہا ہے کہ سیاست سے ہٹ کر ہر شعبہ زندگی سے لوگ شامل ہوں گے۔ وہ اداروں سے بھی ہوسکتے ہیں،ملک کے اندر مختلف ایجنسیز کے ذریعے ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف آنکھیں نکال کر جنگ کیلئے تیار بیٹھے ہیں، اس ماحول کو ختم ایک دن میں نہیں کیا جاسکتا،کسی میز پر بیٹھ کر اور کسی چھڑی سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ ایک غیر محسوس اور پر خلوص سرگرمی سے ہوسکتا ہے۔محمد علی درانی نے اس ڈائیلاگ کے ممکنہ نتائج گنواتے ہوئے کہا کہ وہ استعفے جو جنوری میں آنے ہیں وہ موخر ہوجائیں گے۔ سینیٹ کے انتخابات جس کے بارے میں لگ رہا تھا کہ شاید نہ ہو پائیں وہ بھی ہوجائیں گے،اس کے نتیجے میں لانگ مارچ اور آخری ٹکرا ؤکی صورتحال بھی آگے چلی جائے گی۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ

یہ ٹریک ٹو لندن بھی جائے گا یا نہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ لندن شاید چلا بھی گیا ہو، ضروری تو نہیں کہ ٹریک ٹو میں آپ کو لوگ چلتے پھرتے نظر آئیں۔ میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ جب یہ ماحول بنے گا کہ شدت کے رویے ٹھیک نہیں تو عمران خان اپنے رویے کی شدت کم کرلیں گے اور انہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے ذہن کے مالک

انسان ہیں، وہ کبھی کبھی کسی کے سمجھانے سے نہیں سمجھتے، جب منفی نتائج نکلتے ہیں تو انہیں سمجھ آتا ہے کہ غلط کام ہوا ہے۔نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹریفک ٹو ڈائیلاگ کا آغاز ہو چکا ہے اور جن لوگوں نے اس بارے میں بیانات دیے ہیں وہ اس بات کی نشاندہی ہیں کہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…