جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

گناہ سے پاک فیس بک پرسینکڑوں کی دلچسپی

datetime 8  جولائی  2015 |

برازیلیا(نیوزڈیسک )برازیل میں عیسائیوں کی ایک تبلیغی تنظیم نے سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے جس میں گالیاں دینے پر پابندی ہے اور نہ ہی وہاں کسی قسم کا شہوت انگیز مواد ہے۔فیس گلوریا کے بانیوں کا دعوی ہے کہ ان کی سائٹ نے پہلے ایک ماہ میں ایک لاکھ ارکان بنائے ہیں۔نیٹ ورک سائٹ پر 600 ایسے الفاظ ہیں جن کا استعمال کرنا منع ہے اور ایک آمین کا بٹن بھی ہے جو کسی پوسٹ کی تعریف کے اظہار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح مسلمانوں کے لیے قائم کیا گیا امہ لینڈ نامی سوشل نیٹ ورک 2013 میں شروع ہوا تھا۔ اس کے اب تک تقریبا تین لاکھ 29 ہزار ارکان ہیں۔ اس میں عورتوں کے لیے وسیع انفرادی سیٹنگز اور روز مرہ استعمال ہونے والے اسلامی اقوال موجود ہیں۔امہ لینڈ کے بانی معروف یسوپوو اور جمال الدین یون نے اپنی ویب سائٹ لانچ ہونے کے کچھ عرصے بعد ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم نے امہ لینڈ اسلامی اقدار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائی ہے، کوئی چغلی نہیں کوئی غیبت نہیں، کوئی فخر نہیں اور کوئی فضول بات نہیں بلکہ جو پیغام ضروری ہے اسی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے۔برازیل کی فیس گلوریا اس وقت صرف پرتگالی زبان میں دستیاب ہے لیکن اسے دیگر زبانوں میں متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ موبائل ایپلیکشن بھی بنائی جائیں گی۔دنیا میں سب سے زیادہ رومن کیتھولک آبادی برازیل میں ہے اور ملک کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق صرف ایک فیصد آبادی خدا پر یقین نہیں رکھتی یا لامذہب ہے۔ویب ڈیزائنر آتلا باروس کا کہنا ہے کہ فیس بک پر آپ کو بہت تشدد آمیز اور فحش مواد دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے ہم نے یہ نیٹ ورک بنانے کا سوچا، جہاں ہم خدا اور محبت کی بات کریں اور خدا کے پیغامات پھیلا سکیں۔انھوں نے بتایا کہ اس ویب سائٹ پر ہم جنس پرستی سے متعلق مواد پر بھی پابندی ہے۔آتلا باروس اور ان کے تین ساتھی دفتر میں کام کر رہے تھے جب انھیں اس سماجی نیٹ ورک کا خیال آیا۔ تب سے انھوں نے اس ویب سائٹ کے لیے 16 ہزار ڈالر خرچ کیے ہیں۔انھوں نے کہا ہمارا نیٹ ورک عالمی ہے۔ ہم نے فیس گلوریا کا انگلش ڈومین تیار کیا ہے۔ ہم ٹوئٹر اور فیس بک کا مقابلہ یہاں اور ہر جگہ کریں گے۔پروگرامر جان گراہم کمنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ مذہب اور ٹیکنالوجی کا اکثر ملاپ ہوتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…