ہفتہ‬‮ ، 27 جون‬‮ 2026 

موبائل فون اب چارج کریں وائی فائی سے۔۔۔

datetime 7  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )موبائل فون، انتہائی کارآمد آلہ ہے، مگر اسے بار بار چارج کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، جو بعض اوقات ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس وقت ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ کاش موبائل فون سیٹ بیٹری کے بغیر ہی کام کرتے رہتے یا پھر بیٹری ازخود اپنے لیے توانائی اکٹھا کرنے کی خصوصیت رکھتی۔یہ خواہش مستقبل قریب میں حقیقت بننے والی ہے، کیوں کہ سائنس دانوں نے بیٹری کو وائی فائی سے چار کرنے کا کام یاب تجربہ کرلیا ہے۔ امریکی ریاست سیٹل میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی ٹیم نے وائی فائی سگنلز کی مدد سے پانچ میٹر کی دوری پر رکھے ہوئے ڈیجیٹل کیمرے کی بیٹری کو چارج کرلیا۔ یہ کام یابی انٹرنیٹ آف تھنگز کے تصور کو حقیقت کا روپ دینے کی جانب انتہائی اہم پیش رفت ہے۔انٹرنیٹ آف تھنگز وہ تصور ہے جس کے مطابق تقریبا ہر شے میں ڈیجیٹل چِپ نصب ہو، اور یہ چِپ اس شے سے متعلق ڈیٹا جیسے محل وقوع، درجہ حرارت وغیرہ نشر کررہی ہو۔ تاہم اس تصور کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ماہرین کو ایک مشکل کا توڑ کرنا ہوگا؛ اور وہ مشکل یہ ہے کہ ان لاتعداد چِپس کو فعال رہنے کے لیے توانائی کیسے مہیا ہوگی۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے وامسی اور ان کے ساتھیوں کی حالیہ کاوش اس مسئلے کے حل کی جانب اہم پیش رفت تصور کی جارہی ہے۔عملی مظاہرے کے ذریعے سائنس دانوں نے دکھایا کہ وائی فائی سگنلز کی مدد سے دوردراز مقامات پر رکھے ہوئے برقی آلات کو چارج کیا جاسکتا ہے۔ سائنس دانوں نے اپنی وضع کردہ ترکیب کو PoWi-Fi ( power over Wi-Fi) کا نام دیا ہے۔وائی فائی سگنلز دراصل توانائی کی ایک شکل ہیں جنھیں ایک انٹینا پکڑ سکتا ہے۔ وائی فائی ریسیور میں ان سگنلز میں چھپی معلومات حاصل کرلینے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ماہرین اس بات پر متفق تھے کہ معلومات کی طرح ان سگنلز سے توانائی کا استخراج بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے سادہ ترکیب استعمال کی۔ انھوں نے وائی فائی انٹینا کو درجہ حرارت سے حساس سینسر (ٹمپریچر سینسر) سے منسلک کر کے اسے وائی فائی روٹر کے قریب رکھ دیا۔ پھر انھوں نے حاصل ہونے والے وولٹیج کا مشاہدہ کیا کہ یہ کتنی دیر تک اپنی شدت برقرار رکھتی ہے۔وائی فائی روٹر سے نشر ہونے والے سگنلز کی طاقت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اسی لحاظ سے ٹمپریچر سینسر کو ملنے والی برقی توانائی بھی کم زیادہ ہوتی ہے۔ اس پروجیکٹ کی ٹیم نے روٹر کو اس طرح پروگرام کیا کہ جب اس سے معلومات یا ڈیٹا نشر نہ ہورہا ہو تو وہ شور ( noise ) نشر کرتا رہے تاکہ ٹمپریچر سینسر کو برابر برقی توانائی ملتی رہے۔ وائی فائی روٹر میں تین Atheros AR9580 چِپ سیٹ استعمال کیے گئے تھے۔ ماہرین نے ان چِپ سیٹس کو اس طرح پروگرام کیا تھا کہ توانائی کا استخراج کرنے والے سینسر کو برقی توانائی کی ترسیل ہوتی رہے۔پھر انھوں نے ٹمپریچر سینسر پر مشاہدہ کیا کہ روٹر سے فاصلے کر وولٹیج پر کیا اثر ہوتا ہے۔ ماہرین نے دیکھا کہ روٹر سے قریبا چھے میٹر کی دوری تک ٹمپریچر سینسر کی کارکردگی سو فی صد تھی۔ انھوں نے سینسر سے ایک ری چارج ایبل بیٹری منسلک کرکے فاصلے کی حد نو میٹر تک بڑھا لی تھی۔ انھوں نے سینسر اور انٹینا کے ساتھ کیمرا بھی جوڑ دیا تھا۔ توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے کیمرے کے ساتھ ایک گنجائش دار ( capacitor ) بھی نتھی کیا گیا تھا۔ وائی فائی سگنلز سے چارج ہونے کے بعد کیمرے سے تصاویر کھینچی گئیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس ترکیب پر کام کرکے روٹر اور انٹینا کا درمیانی فاصلے مزید بڑھانے کی کوشش کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ دوری سے کیمرے، موبائل فون اور دیگر آلات کو چارج کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…