جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

بچوں میں جس طرح میری مقبولیت بڑھی خوش نہیں ہوں تعلیمی اداروں کی بندش کے بعدشفقت محمود کا اہم بیان آگیا

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے بند کرنے سے متعلق فیصلہ بوجھل دل سے کیا، امید ہے جنوری تک تمام تعلیمی ادارے کھل جائیں گے ۔ بچوں میں جس طرح میری مقبولیت بڑھی خوش نہیں ہوں ۔ بچوں کو چھٹیوں کی بجائے تعلیم پر توجہ دینی چاہئے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا ۔ انہوںنے کہا کہ سوشل میڈیا پر چھٹیوں کے حوالے سے میری متعلق کئی باتیں مزاحیہ ہیں سوشل میڈیا پر بچوں میں جس طرح میری مقبولیت بڑھی ہے اس پر خوش نہیں ہوں سوشل میڈیا کا دور ہے لوگ تفریح محسوس کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے بند کرنے سے متعلق فیصلہ بوجھل دل سے کیا لیکن تعلیم سے پہلے بچوں کی صحت اولین ترجیح ہے امید ہے جنوری تک تمام تعلیمی ادارے کھل جائیں گے ۔ بچوں کی چھٹیاں کرنے کی بجائے تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے چھوٹی دنیا حقیقتوں سے آگاہ نہیں ہے ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بچوں کی طرف سے دی جانے والی دعائیں اچھی لگی ہیں، ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے ہم تو ہاسٹل میں بھی روتے پیٹتے جاتے تھے لیکن بدقسمتی سے ہمارا تو کوئی امتحان منسوخ نہیں ہوا ۔ وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ عمران خان کی مقبولیت کو کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔

دوسری جانب کورونا وائرس کی دوسری لہر میں شدت آنے کے ساتھ ملک بھر میں سے تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ حالیہ وزرائے تعلیم کانفرنس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ملک بھر میں 26 نومبر سے تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وفاقی وزیر تعلیم کے

اعلان کے تحت جمعرات سے 24 دسمبر تک تمام اسکول، کالجز، یونیورسٹیاں اور مدرسے بند رہیں گے جب کہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کھلے رہیں گے۔اس کے علاوہ دسمبر میں ہونے والے تمام امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔24 دسمبر تک آن لائن کلاسز ہوں گی اور اس کے بعد10جنوری تک سردیوں کی چھٹیاں ہوں گی جس کے بعد جنوری کے پہلے ہفتے میں صورتحال کا جائزہ لے کر 11 جنوری سے تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔دوسری جانب بلوچستان کے تعلیمی ادارے 28 فروری تک بند رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…