جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایردوآن کے داماد کو استعفی دینے پر کس نے مجبور کیا؟حیران کن انکشاف

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

انقرہ (این این آئی )ترکی کے سابق وزیر خزانہ اورصدر طیب ایردوآن کے داماد بیرات البیرق کے چند روز قبل دئیے گئے استعفے پر ترکی کے سیاسی اور ابلاغی حلقوں میںگرما گرمی بدستور جاری ہے اور اس پر مسلسل بحث کی جا رہی ہے۔ ترک حکومت کے مخالفین اور سیاسی حلقے بیرق کے استعفے کو صدر طیب ایردوآن کی کمزوری کے طور پر پیش کررہے ہیں۔

ترکی کی ایک ریسرچ کمپنی کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ اس اقدام سے ایردوآن کے اختیارات کی کمزوری ظاہر ہوئی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق میٹروپول ریسرچ کے ڈائریکٹر اوزر سنگر نے سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں انکشاف کیا کہ ایک ماضی کا تجربہ تھا جو آج کے دور میں البیرق کے ساتھ پیش آیا ہے۔ ایسا ہی واقعہ کچھ عرصہ قبل ہوا جب سلیمان سویلو نے اپنے فیصلے کے ساتھ استعفی دینے کا اعلان کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایم ایچ پی کی فراہم کردہ تائید نے ایردآون کو استعفی قبول نہ کرنے پر مجبور کیا اور سویلو نے اس کی حمایت کردی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ البیرق کا استعفی مختلف ہے کیوں کہ وہ سلیمان سویلو کے ہم پلہ نہیں ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ البیرق نے استعفی خود نہیں دیا بلکہ طیب ایردوآن نے انہیں ایسا کرنے کو کہا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممکن ہے کہ پریشانی کی وجہ سنٹرل بینک کے گورنر کی تقرری ہے کیوں کہ البیرق ایردوآن تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صدر ایردوآن اپنے داماد کو اکھاڑے سے ہٹانا چاہتے ہیں اور انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ استعفی دینے کے طریقہ کار سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ رجب طیب ایردوآن نے اپنے داماد کو اس پر مجبور کیا اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صدر کا اختیار بتدریج کم ہوتا جارہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ترک صدر نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اپنے داماد کے وزارت خزانہ کے استعفے کو قبول کرلیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…