جمعرات‬‮ ، 07 مئی‬‮‬‮ 2026 

سفر کو ماحول دوست بنانے کےلئے پلاسٹک کے جہاز متعارف

datetime 5  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) ہیتھرو ایئرپورٹ کی توسیع کے اعلان نے یورپ بھر میں ایک بار پھر ہوائی جہازوں کی وجہ سے ہونے والی فضائی آلودگی کے حوالے سے بحث کو جنم دے دیا ہے۔ دوسری جانب اسی مناسبت سے انٹرنیشنل جرنل آف لائف سائیکل اسیسمنٹ میں ایک تحقیق شائع کی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر فضائی کمپنیز ، سفر کو ماحول دوست بنانا چاہتی ہیں تو انہیں پلاسٹک کے جہازوں کو متعارف کروانا ہوگا۔ جہاز کی باڈی کی تیاری میں المونیم کی جگہ پلاسٹک کا استعمال اس کے وزن کو کم کرے گا اور وزن میں کمی کا مطلب فیول کے استعمال میں کمی ہے۔ تحقیقاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس طریقے سے ایک جہاز سے پیدا ہونے والی خطرناک گیسز کی مقدار پندرہ فیصد تک کم ہوسکے گی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پلاسٹک باڈی کی تیاری میں زہریلے کیمیکلز اور گیسز مقدار میں المونیم کے جہازوں کی پروڈکشن سے دوگنا ہوگی تاہم یہ صرف ایک بار کا معاملہ ہوگا۔ اسکے بعد جب ایک پلاسٹک باڈی کا جہاز فضا میں اڑتے ایک المونیئم کے جہاز کی جگہ سنبھال لے گا تو ایسے میں فضا میں خارج ہونے والے زہریلے بخارات کی مقدار خود بخود کم ہونے لگے گی۔ اس تحقیق کے بارے میں شیفلڈ یونیورسٹی کے ایڈوانسڈ میٹریل ٹیکنالوجیز کے پروفیسر ایلما ہوڈزک کہتے ہیں کہ کمرشل لحاظ سے سستااور ماحول دوست ہونے کی وجہ سے فضائی کمپنیز کے محفوظ مستقبل کی واحد ضمانت پلاسٹک کے جہاز ہے۔ فضائی سفر سے پیدا ہونے والی آلودگی کی مقدار کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مسافر کے لندن سے نیویارک جانے اور واپسی کے سفر میں جس قدر کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہوتی ہے، وہ اس مقدار کے یکساں ہوتی ہے جو کہ ایک اوسط یورپی اپنے گھر کوسارا سال گرم رکھنے کیلئے توانائی کے استعمال کی صورت پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔میساچوٹس انسٹی ٹیوٹ بھی اسی مناسبت سے تحقیق کررہا ہے۔ یہاں تحقیق کا محور جہاز کے پر ہیں۔ ایک اور تحقیق میں کاک پٹ کے تصور کو ختم کرنے پر کام ہورہا ہے جبکہ گزشتہ برس ایک ایسی ایئر بس کی تجویز بھی سامنے آئی تھی جس میں فلائٹ ڈیک نہ ہو۔ اس طرح پائلٹ کھڑکی سے باہر دیکھنے کے بجائے کیمرے اور دیگر اشیا کی مدد سے اپنے ماحول جائزہ لے گا۔
یہ تمام تحقیقات محض مفروضوں اور تجاویز کی حد تک محدود ہیں کیونکہ فی الوقت انہیں عملی شکل دینا ممکن دکھائی نہیں دیتاہے، ایسے میں پلاسٹک کے جہاز ہی فضائی کمپنیوں کے کاروبار کو ماحول دوست بنانے کی آخری امید دکھائی دیتے ہیں۔



کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…