جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سفر کو ماحول دوست بنانے کےلئے پلاسٹک کے جہاز متعارف

datetime 5  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) ہیتھرو ایئرپورٹ کی توسیع کے اعلان نے یورپ بھر میں ایک بار پھر ہوائی جہازوں کی وجہ سے ہونے والی فضائی آلودگی کے حوالے سے بحث کو جنم دے دیا ہے۔ دوسری جانب اسی مناسبت سے انٹرنیشنل جرنل آف لائف سائیکل اسیسمنٹ میں ایک تحقیق شائع کی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر فضائی کمپنیز ، سفر کو ماحول دوست بنانا چاہتی ہیں تو انہیں پلاسٹک کے جہازوں کو متعارف کروانا ہوگا۔ جہاز کی باڈی کی تیاری میں المونیم کی جگہ پلاسٹک کا استعمال اس کے وزن کو کم کرے گا اور وزن میں کمی کا مطلب فیول کے استعمال میں کمی ہے۔ تحقیقاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس طریقے سے ایک جہاز سے پیدا ہونے والی خطرناک گیسز کی مقدار پندرہ فیصد تک کم ہوسکے گی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پلاسٹک باڈی کی تیاری میں زہریلے کیمیکلز اور گیسز مقدار میں المونیم کے جہازوں کی پروڈکشن سے دوگنا ہوگی تاہم یہ صرف ایک بار کا معاملہ ہوگا۔ اسکے بعد جب ایک پلاسٹک باڈی کا جہاز فضا میں اڑتے ایک المونیئم کے جہاز کی جگہ سنبھال لے گا تو ایسے میں فضا میں خارج ہونے والے زہریلے بخارات کی مقدار خود بخود کم ہونے لگے گی۔ اس تحقیق کے بارے میں شیفلڈ یونیورسٹی کے ایڈوانسڈ میٹریل ٹیکنالوجیز کے پروفیسر ایلما ہوڈزک کہتے ہیں کہ کمرشل لحاظ سے سستااور ماحول دوست ہونے کی وجہ سے فضائی کمپنیز کے محفوظ مستقبل کی واحد ضمانت پلاسٹک کے جہاز ہے۔ فضائی سفر سے پیدا ہونے والی آلودگی کی مقدار کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مسافر کے لندن سے نیویارک جانے اور واپسی کے سفر میں جس قدر کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہوتی ہے، وہ اس مقدار کے یکساں ہوتی ہے جو کہ ایک اوسط یورپی اپنے گھر کوسارا سال گرم رکھنے کیلئے توانائی کے استعمال کی صورت پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔میساچوٹس انسٹی ٹیوٹ بھی اسی مناسبت سے تحقیق کررہا ہے۔ یہاں تحقیق کا محور جہاز کے پر ہیں۔ ایک اور تحقیق میں کاک پٹ کے تصور کو ختم کرنے پر کام ہورہا ہے جبکہ گزشتہ برس ایک ایسی ایئر بس کی تجویز بھی سامنے آئی تھی جس میں فلائٹ ڈیک نہ ہو۔ اس طرح پائلٹ کھڑکی سے باہر دیکھنے کے بجائے کیمرے اور دیگر اشیا کی مدد سے اپنے ماحول جائزہ لے گا۔
یہ تمام تحقیقات محض مفروضوں اور تجاویز کی حد تک محدود ہیں کیونکہ فی الوقت انہیں عملی شکل دینا ممکن دکھائی نہیں دیتاہے، ایسے میں پلاسٹک کے جہاز ہی فضائی کمپنیوں کے کاروبار کو ماحول دوست بنانے کی آخری امید دکھائی دیتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…