بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

مذاکرات کے لیے پہل بھارت کو کرنا ہوگی، نوازشریف

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلا م آ باد۔۔۔۔ وزیراعظم نوازشریف سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے نیپال پہنچ گئے جہاں وہ کھٹمنڈو میں سارک کانفرنس سے خطاب کریں گے جبکہ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن پہل بھارت کو کرنا ہوگی۔نیپال میں منعقد ہونے والے 2 روزہ سارک سربراہ کانفرنس کے لیے وزیراعظم نواز شریف کھٹمنڈو پہنچے جہاں نیپال کے نائب وزیراعظم نے ان کا استقبال کیا جبکہ اس موقع پر ان کے اعزاز میں استقبالیہ بھی دیا گیا جس میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ وزیراعظم نواز شریف کے کے ہمراہ ان کے معاون خصوصی عرفان صدیقی اور طارق فاطمی بھی موجود ہیں جب کہ مشیر خواجہ سرتاج عزیز گزشتہ روز ہی کھٹمنڈو پہنچ گئے جہاں انہوں نے گزشتہ روز وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی اور سارک ممالک کے سامنے پاکستان کا موقف رکھا۔
وزیراعظم نوازشریف 26 نومبر کو سارک سربراہ کانفرنس سے خطاب کریں گے اور 27 نومبر کو وہ سارک ممالک کے سربراہان مملکت سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے جس میں دہشت گردی کے خاتمے اور تجارت کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف کی اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ملاقات کو خارج از امکان ظاہر کیا گیا ہے تاہم اس دوران وفود کی سطح پر مذاکرات کیے جائیں گے۔
نیپال پہنچنے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اور دنیا کی دوسری علاقائی تنظیمیں زبردست ترقی کرچکی ہیں لیکن سارک کو 30 سال ہوچکے ہیں اور اس میں خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوسکی ہے جبکہ پاکستان ، بھارت کیکشیدہ تعلقات کیباعث بھی سارک خاطرخواہ ترقی نہیں کرسکی تاہم پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے بھارت کو پہل کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے سیکریٹری خارجہ مذاکرات کو منسوخ کردیا تھا لیکن کسی ایک وزیراعظم کو بات چیت ختم کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ حکومت خطے میں امن اور استحکام چاہتی ہے، بہتر سکیورٹی اور معاشی تعاون کے اقدام سے خطے کو خوشحال بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارک کو یورپی یونین کی طرز پر معاشی ترقی اور تجارت کا فورم بنانا چاہتے ہیں کیونکہ سارک کا خطہ امن اور اقتصادی تعاون کی فضا میں ترقی کرسکتا ہے۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…