جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

فیس بک اب آمدنی کاذریعہ

datetime 11  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )فیس بک پر اپنے تخلیقی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والے افراد اب اپنے اس شوق کو آمدنی کے حصول کا ذریعہ بناسکیں گے۔سوشل میڈیا کی یہ عالمی کمپنی ایک سجیسٹڈ وڈیوز فیڈ شروع کررہی ہے، جس کے ذریعے کئی صارفین کے ویڈیو کلپس اور اشتہارات کو ملا کر ایک ویڈیو تیار ہو جاتا ہے۔ ان ویڈیوز کو لوگوں کی جس قدر تعداد دیکھے گی، اتنی ہی زیادہ اس سے آمدنی ہوسکے گی۔ ویڈیو میں شامل اشتہارات سے ہونے والی آمدنی کا 45 فیصد حصہ فیس بک کا ہوگا۔ فیس بک کے مطابق اس ویب سائٹ پر روزانہ تقریبا چار ارب مرتبہ ویڈیوز دیکھے جاتے ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ فیس بک پر ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے یو ٹیوب کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ آئی ایچ ایس کی ایڈورٹائزنگ تجزیہ نگار ایلینی مارولی کہتی ہیںویڈیو کی دنیا میں فیس بک بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ایلینی مارولی نے بتایادسمبر 2014 میں فیس بک نے وڈیوز کے میدان میں پہلی مرتبہ یو ٹیوب کو پیچھے چھوڑدیا تھا۔ ہمیں لگتا ہے آئندہ برسوں میں یو ٹیوب مزید پیچھے چلا جائے گا۔ اس سال جون میں امریکی کمپنی ایچ بی او نے اپنے کچھ پروگراموں کو فیس بک پر نشر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ویڈیوز کا معاوضہ دینے سے دوسرے پبلشروں کو بھی اپنے وڈیوز فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کا موقع ملے گا۔ یو ٹیوب ویڈیوز کو اپ لوڈ کرنے والوں کو اس میں دکھائے گئے اشتہارات سے ہونے والی کمائی کا 55 فیصد دیتا ہے جبکہ فیس بک اس 55 فیصد کو کئی صارفین میں تقسیم رہا ہے۔ اور یہ کوئی غیر معمولی یا بہت دلکش پیشکش نہیں ہے۔ لیکن فیس بک اور یو ٹیوب کے درمیان ویڈیو اپ لوڈ کرنے والوں کو متاثر کرنے کی دوڑ لگ سکتی ہے۔فیس بک کو سال 2015 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اشتہارات کے ذریعے 3.3 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی ہے۔ اس کا 75 فیصد حصہ موبائل پر آنے والے اشتہارات سے حاصل ہوا ہے۔ یو ٹیوب اپنے صارفین کو ان کے ویڈیوز کو خود منظم کرنے کی سہولت بھی دیتا ہے۔ جبکہ فیس بک نے کہا ہے کہ وہ فی الحال کچھ میڈیا گروپ اور مخصوص لوگوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ویڈیوز تیار کرنے والوں کے لیے ایک مشکل یہ ہے کہ یو ٹیوب کے مقابلے میں فیس بک پر ویڈیوز کی تلاش آسان نہیں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…