جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

کارکن ڈائی آکسائیڈکے اخراج سے سمندری پانی تیزابی ہونے لگا

datetime 3  جولائی  2015 |

لندن (نیوزڈیسک )سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں واضح کمی نہیں کی گئی تو سمندری حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔جریدے سائنس میں لکھے گئے اس مضمون میں ماہرین نے کہا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے باعث سمندر گرم ہو رہے ہیں، آکسیجن کی کمی ہو رہی ہے اور زیادہ تیزابی ہوتے جا رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اجلاس میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو دو سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا سمندری نظام پر پڑنے والے اثرات کو روک نہیں سکے گا۔سائنس جریدے میں سائنسدانوں نے لکھا ہے کہ سمندروں کو بچانے کے لیے آپشنز میں کمی ہو رہی ہے اور جو آپشنز بچی ہیں وہ مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔اس رپورٹ کے لیے دنیا کے 22 بڑے سائنسدانوں نے اس رپورٹ کے لیے کام کیا ہے۔ان کے خیال میں سیاستدان جو موسمی تبدیلی کے مسئلے کو حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں انھوں نے موسمی تبدیلی کے سمندروں پر اثرات پر بہت کم توجہ دی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہے کہ ایندھن کے جلائے جانے کے باعث پیدا ہونے والی کاربن ڈائی اوکسائیڈ کی وجہ سے سمندروں کی کیمیا بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی 250 ملین سال قبل ہونے والی تبدیلی سے بھی تیز ہے۔سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ 1750 سے جو کاربن ڈائی اوکسائیڈ پیدا کی گئی ہے اس کا 30 فیصد حصہ سمندروں نے جذب کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ کاربن ڈائی اوکسائیڈ ہلکی سے تیزابی گیں ہوتی ہے اس لیے سمندری پانی تیزابی ہو گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سمندروں نے 1970 سے صنعتی علاقوں کی جانب سے پیدا کی گئی حدت کو بھی جذب کیا ہے جس کے باعث سمندر گرم ہو گئے ہیں اور اس کے باعث آکسیجن میں کمی واقع ہوئی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…