اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

بھارت کی جابرانہ حکومتی پالیسی کی وجہ سے کشمیریوں میں نفرت بڑھی، برطانوی مورخ نے مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا

datetime 6  اگست‬‮  2020 |

لندن(این این آئی )برطانوی مورخ، سوانح نگار اور جنوبی ایشیا اور کشمیر سے متعلق متعدد کتابوں کی مصنفہ وکٹوریہ شوفیلڈ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت گزشتہ برس کے دوران کشمیریوں کے دل و دماغ جیتنے میں ناکام رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو کچھ ہو رہا تھا اس کے بارے میں بھارتی حکومت نے بڑے پیمانے پر غلط فہمی پر مبنی مہم چلائی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس سے کہیں زیادہ لوگوں کو اپنے مقف کے مخالف کردیا۔وکٹوریہ شوفیلڈ نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے مقابلے میں حال ہی میں کشمیر کی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر زیادہ مظاہرے ہو رہے ہیں، مقبوضہ وادی میں طاقت ور کی حکمرانیرائج ہے اور بھارتی حکومت عالمی برادری اور کشمریوں کے مقف کو نظر انداز کرکے اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارتی حکومت مقامی قیادت میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش میں ناکام رہی کیونکہ جو بھی بھارتی رہنما بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے حامی کے طور پر سامنے آتا ہے وہ کشمیری آبادی میں بدنام ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل قیادت کا فقدان ہے۔ڈومیسائل قانون میں تبدیلیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مصنفہ وکٹوریہ شوفیلڈ نے کہا کہ اس اقدام سے کشمیر میں استحکام پیدا نہیں ہوگا بلکہ اس کے بجائے خاردار تاروں اور اونچے باڑ والے علاقوں کی طرف لے جائے گا جس سے عوام مزید ناخوش ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایک سیاسی مقصد کے لیے پوری آبادی کو تبدیل کر رہا ہے جو افسوسناک ہے۔مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل کے بارے میں بات کرتے ہوئے وکٹوریہ شوفیلڈ نے کہا کہ عالمی برادری کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ اس بارے میں بات کرے لیکن اس سے بھارت کو تکلیف ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں بھارتی سول سوسائٹی سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کشمیر سے متعلق اقدام ملک کی سیکولر اقدار سے ہم آہنگ نہیں ہے۔سوائن نے بتایا کہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی ناراضگی پائی جارہی ہے اور یہ ایک انتہائی دھماکا خیز صورتحال ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مودی کی حکومت کے بعد ہی اس اقدام کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پسپائی ہوجاتی ہے تو یہ صرف چار برس میں نئی حکومت کے بعد ہوگی۔

ابھی صورتحال بہت کشیدہ رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جو عملی اقدام اٹھا سکتا ہے ان میں کشمیریوں کو اخلاقی مدد فراہم کرنا ہے۔مصنفہ نے کہا کہ او آئی سی، بھارت پر دبا ڈالنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک / او آئی سی جب مسئلہ کشمیر کی بات کرتے ہیں تو وہ عام طور پر تقسیم ہوجاتے ہیں جبکہ انہیں واقعی مسئلہ کشمیر پر اکٹھا ہونا چاہیے۔وکٹوریہ شوفیلڈ نے مزید کہا کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بین الاقوامی فورمز میں لے جانا چاہیے اور دوسرے ممالک کی حمایت کے لیے لابنگ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس تنازع کو حل کرنے کے لیے مکالمہ ایک سب سے اہم طریقہ ہے، بات چیت میں ناکامی ہی ہمیں اس صورتحال کی طرف لے گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…