کراچی (نیوزڈیسک) برطانوی صحافی اون بینٹ جونز نے تمام باتیں سچ کہی ہیں اسی لئے ایم کیو ایم ہتک عزت کا دعویٰ نہیں کررہی، ایم کیو ایم کے بار ے میں پاکستانی اور برطانوی حکومت متفق ہیں، ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا نہیں سوچا جارہا، الطاف حسین اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ٹارگٹ کیا جائے گا ،کوئی یہ نہیں چاہتا کہ ایم کیو ایم اور مہاجر ازم کی چھٹی کرادی جائے، ملٹری اسٹیبلشمنٹ ، وزیراعظم اور ان کی سیاسی جماعتوں کی خواہش ہے کہ ایم کیو ایم کی مو جو د ہ قیادت کو فارغ کیا جائے۔ان خیالات کا معروف تجزیہ کارنجم سیٹھی نے بی بی سی کی رپو ر ٹ پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اون بینٹ جونز کی اسٹوری میں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن چونکہ یہ رپورٹ بی بی سی پر نشر ہوئی ہے اس لئے پاکستانی میڈیا میں اس پر ا تنی زیادہ بات ہورہی ہے، اون بینٹ جونز نے تمام باتیں سچ کہی ہیں، ایم کیو ایم کی قیادت کو بھی ساری بات کا پتا ہے اسی لئے انہوں نے بی بی سی پر ہتک عزت کا دعویٰ نہیں کیا ہے، اون بینٹ جونز کی اسٹوری کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اسٹریٹجک فیصلہ کرلیا ہے کہ جہاں گڑبڑ نظر آئے گی وہاں ایکشن کیا جائے گا ،اس فیصلے کے تحت پہلا ٹارگٹ ایم کیو ایم ہے کیونکہ فوج سمجھتی ہے کہ ایم کیو ایم غیرقانونی کار رو ا ئیوں میں ملوث رہی ہے، ایم کیو ایم اور دیگر سیاستدانوں کو اب اس حوالے سے سمجھ جانا چاہئے،فوج کراچی کو صاف کرنا چاہتی ہے اس کا مطلب ایم کیو ایم سے جرائم پیشہ افراد کا صفایا ہے۔نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ عمران فاروق قتل کیس میں ملوث دو افراد کی گرفتاری ظاہر کرنے سے لگتا ہے کہ پاکستان نے برطانوی حکومت سے کوئی لین دین کرلیا ہے،ایم کیو ایم کے بار ے میں پاکستانی اور برطا نو ی حکومت متفق ہیں، ایک پلان بنا ہوا ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے، تین ملزمان کو برطانیہ کیسے جانا ہے، لندن میں کیا ہونا ہے ،یہ سب کچھ اسی منصوبہ کے مطابق ہورہا ہے، ایم کیو ایم کے حوالے سے اس وقت انڈیا اینگل سامنے لانا بہت اہم ہے، بی بی سی کو یہ اسٹوری دینے کا ایک مقصد تو ایم کیو ایم پر چڑھائی کرنا اور دوسرا مقصد انڈیا کو اس کی حد میں رکھنے کیلئے کاونٹر اٹیک کرنا ہے۔نجم سیٹھی نے کہا کہ اون بینٹ جونز کی جو رپورٹ نشر ہوئی ہے اس کے شواہد پہلے انہیں دیئے گئے ، اون بینٹ جونز نے وہ شواہد دیکھ کر خود کو اور اپنے ادارے کو مطمئن کیا جس کے بعد بی بی سی نے اس اسٹوری کو چلانے کا فیصلہ کیا ، اون بینٹ جونز کافی عرصہ بعد اس اسٹوری کیلئے پاکستان آئے، اس کا مطلب ہے کہ انہیں کچھ سنگھایا گیا تھا تو وہ پاکستان آئے، اون بینٹ جونز یہ اسٹوری دینے سے قبل برٹش ہائی کمیشن سے ضرور ملے ہوں گے۔نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ پچھلی دفعہ جب بی بی سی نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی اسٹوری لگائی تھی تو ایم کیو ایم نے بی بی سی اور اون بینٹ جونز پر ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا کہا تھا جس میں یہ بھی تھا کہ آپ یہ اسٹوری ویب سائٹ پر نہ لگایئے ، اس کے بعد بی بی سی کی ویب سائٹ پر وہ اسٹوری نہیں چھپی، اون بینٹ جونز نے چھوٹی سی نیوز رپورٹ تو نیوز نائٹ میں دیدی لیکن وہ اسٹوری روک دی۔ سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا نہیں سوچا جارہا، الطاف حسین اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ٹارگٹ کیا جائے گا جس میں محمد انور بھی ا?جائیں گے کیونکہ برطانوی حکام نے ان سے کافی پوچھ گچھ کی ہے، ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا لیکن کوئی یہ نہیں چاہتا کہ ایم کیو ایم اور مہاجر ازم کی چھٹی کرادی جائے، ایم کیو ایم کی موجودہ قیادت پر دہشتگردی اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کے الزامات ہیں اسی لئے انہیں پاکستان کیلئے خطرہ سمجھا جارہا ہے، یہاں پر ایم کیو ایم کے خیالات اور مہاجر حقوق کے خلاف کوئی نہیں ہے، ملٹری اسٹیبلشمنٹ ، وزیراعظم نواز شریف اور سیاسی جماعتوں کی یہی خواہش ہے کہ ایم کیو ایم کی موجودہ قیادت کو فارغ کیا جائے،الطاف حسین کو لندن میں مسائل ہوں گے لیکن انہیں فوری طور پر گرفتار کیے جانے کا امکان نہیں ہے، آئندہ الیکشن میں تین سال باقی ہیں اور اس دوران ایم کیو ایم کی قیادت کے ساتھ بہت کچھ ہوسکتا ہے اور نئی قیادت بھی سامنے آسکتی ہے، عدالت میں ایم کیو ایم کو بھارتی فنڈنگ اور ٹریننگ کے الزامات بطور پارٹی تو ایم کیو ایم پر ثابت ہونا مشکل ہیں البتہ کچھ افراد کے خلاف ضرور کارروائی ہوگی۔ نجم سیٹھی نے بی بی سی کے حوالے سے اپنا واقعہ ناظرین سے شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ بی بی سی نے 1990ء میں میرا انٹرویو کیا جس میں میں نے نواز شریف پر الزام لگایا، یہ بات انٹیلی جنس بیورو اور نواز شریف کو پتا چل گئی اور انہوں نے مجھے گرفتار کرلیا، بی بی سی کو انہوں نے کہا کہ آپ نجم سیٹھی کا انٹرویو نہیں چلائیں گے مگر بی بی سی نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا، اس پر انہوں نے بی بی سی کو کہا کہ اگر آپ نے نجم سیٹھی کا انٹرویو چلایا تو ہم آپ پر ہتک عزت کا دعویٰ کردیں گے، جب یہ کیس عدالت میں گیا تو بی بی سی نے مسلم لیگ ن کی حکومت کے ساتھ م±ک م±کا کیا کہ آپ کیس واپس لے لیں ہم یہ پروگرام پاکستان اور انڈیا میں نہیں دکھائیں گے اور وہ پروگرام آج تک پاکستان میں نہیں دکھایا گیا ہے۔
متحدہ بی بی سی پر ہتک عزت کا دعویٰ نہیں کرے گی؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لاہور: چلڈرن اسپتال کی پارکنگ سے ڈاکٹر کی لاش ملنے کا معمہ حل، ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
-
ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا اعلان
-
راولپنڈی میں زیادتی کا شکار ہونے والی 15 سالہ طالبہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ، پولیس نے ملزم کو گرفتار...
-
3 دن سے لاپتہ چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر کی لاش گاڑی سے برآمد، ہسپتال میں خوف و ہراس
-
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی کی کہانی خواجہ سعد رفیق منظرعام پر لے آئے
-
وزیراعلی نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دیں
-
غیرت کے نام پر بہن اور مبینہ آشنا ہلاک، بھائی سمیت تین ملزمان گرفتار
-
کراچی کنگز میں شامل متحدہ عرب امارات کے 2 کھلاڑیوں کو امارتی کرکٹ بورڈ نے وطن واپس بلالیا
-
اپنی بیوی سے علیٰحدگی کی افواہوں پر کرکٹر امام الحق کا رد عمل سامنے آگیا
-
مارکیٹیں کس وقت بند ہوں گی؟ بڑی خبر آگئی
-
سوشل میڈیا کیلئے ویڈیو بنانے پر دیور کے ہاتھ بھابھی اور 2 بھتیجیاں ہلاک
-
نادرا نے ویزا درخواست اور بائیو میٹرک تصدیق کا عمل مزید آسان کر دیا
-
ایک دن کے استحکام کے بعد سونا پھر مہنگا، چاندی سستی



















































