اتوار‬‮ ، 14 جون‬‮ 2026 

ملزمان کو 90 دن حراست میں رکھنے اور کسی مقام کو سب جیل قرار دینے کا اختیار ختم،کرپٹ افراد سزا کے بعد بھی پلی بارگین کر سکیں گے،نئے ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ سامنے آگیا، حیرت انگیز نکات

datetime 29  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)حکومت نے نئے ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ تیار کرلیا ہے جس کے مطابق ملزمان کو 90 دن حراست میں رکھنے اور کسی مقام کو سب جیل قرار دینے کا اختیار بھی ختم کردیا جائیگا،ریفرنس دائر ہونے کے بعد عدالت ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے گی، احتساب عدالت حاضری یقینی بنانے کے لیے ملزم سے ضمانتی مچلکے بھی طلب کر سکے گی۔

کرپٹ افراد سزا کے بعد بھی پلی بارگین کر سکیں گے، رضا کارانہ رقم واپسی پر 5 سال کی نااہلی کا سامنا کرنا ہوگا،حکومتی کمیٹی اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے بعد نیب آرڈنینس پر معاملات آگے بڑھائے گی۔ نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ حکومت نے نئے نیب ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ تیار کرلیا ہے جس کے مطابق چیئرمین نیب سے ملزمان کی گرفتاری کا اختیار واپس لے لیا جائے گا جب کہ ملزمان کو 90 دن حراست میں رکھنے اور کسی مقام کو سب جیل قرار دینے کا اختیار بھی ختم کردیا جائے گا۔مجوزہ مسودہ کے مطابق ریفرنس دائر ہونے کے بعد عدالت ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے گی، احتساب عدالت حاضری یقینی بنانے کے لیے ملزم سے ضمانتی مچلکے بھی طلب کر سکے گی، مچلکوں کے باوجود عدم حاضری پر عدالت وارنٹ گرفتاری جاری کرسکے گی جب کہ 50 کروڑ سے کم کی کرپشن پر نیب کارروائی نہیں کر سکے گا، نیب 5 سال سے زائد پرانے کھاتے بھی نہیں کھول سکے گا جب کہ ٹیکس اور لیوی کے ایشوز بھی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں ہوں گے۔مسودہ میں کہا گیا کہ عوامی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کے لیے مالی فوائد کے شواہد لازمی ہوں گے، اخراجات کے لیے کسی کی مدد لینے والا زیر کفالت تصور ہوگا، نیب کسی ملزم کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر نہیں کر سکے گا جب کہ کرپشن کے ملزمان دوران تفتیش وکیل کو بھی ساتھ لے جا سکیں گے۔

نیب کسی گمنام شکایت پر کارروائی نہیں کر سکے گا جبکہ منتخب نمائندوں کا ٹرائل بھی اسی صوبے میں ہوگا جہاں سے وہ الیکشن جیتیں گے۔مسودہ میں کہا گیا کہ کرپٹ افراد سزا کے بعد بھی پلی بارگین کر سکیں گے، رضا کارانہ رقم واپسی پر 5 سال کی نااہلی کا سامنا کرنا ہوگا جبکہ ریفرنس دائر ہونے تک نیب حکام کسی ملزم کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کر سکتے، اس کے علاوہ میڈیا پر بیان دینے والے نیب افسر کو ایک سال تک قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا جب کہ آرڈیننس کا اطلاق تمام زیرالتواء مقدمات پر بھی ہوگا۔نئے نیب آرڈنینس پرحکومت اپوزیشن سے بھی مشاورت کرے گی، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی، اسدعمر اور پرویز خٹک کو اپوزیشن سے بات کرنے کی ذمہ داری سونپ چکے، حکومتی کمیٹی اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے بعد نیب آرڈنینس پر معاملات آگے بڑھائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…